یونیورسٹی تیار، پاکستانیوں کو ویزے کا مسئلہ

سارک ملکوں کی جنوبی ایشیائی یونیورسٹی کا باضابطہ تعلیمی سیشن آئندہ اگست سے دلی میں شروع ہو رہا ہے۔

جی کے چڈھا
Image caption ساؤتھ ایشین یونیورسٹی کے سربراہ پروفیسر جی کے چڈھا ہيں

اس یونیورسٹی میں یورپ اور امریکہ کےطرز پر پاکستان سمیت سبھی سارک ممالک کےطلبہ مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کر سکیں گے۔

ساؤتھ ایشین یونیورسٹی کے سربراہ پروفیسر جی کے چڈھا نے بی بی سی کو بتایا کہ اگست سے شروع ہونے والے تعلیمی سیشن میں اکنامکس اور کمپیوٹر ایپلیکیشن کے ماسٹرز کورسز میں ایڈمیشن دیے جائیں گے۔ یونیورسٹی عارضی طور پر جنوبی دلی میں اکبر بھون میں واقع ہوگی ۔ جنوری سے دوسرے سمسٹر میں بائیوٹیکنالوجی کا کورس بھی شروع ہو جائے گا ۔

سارک کے طلبہ اور ٹیچرز کو ویزا اور تمام ديگر متعلقہ سہولیات حاصل ہونگی لیکن پاکستان کے ٹیچرز اور سٹوڈنٹس کے سوال پر نااتفاقی پیدا ہوئی ہے۔

اس طرح کی اطلاعات ہیں کہ ہندوستان ، پاکستان کے شہریوں کےلیے ویزا کے موجودہ سخت ضوابط کا اطلاق وہاں کے طلبہ پر بھی کرنا چاہتا ہے ۔

Image caption ساؤتھ ایشین یونیورسٹی کے اکیڈمک اور پلاننگ کے انچارج پرفیسر راجیو کے سکسینہ ہيں

پاکستان نے بین الاحکومتی سٹیرنگ کمیٹی میں یہ مطالبہ کیا ہے کہ سارک یونیورسٹی میں آنے والے پاکستانی طلبہ اور ٹیچرز کو دیگر سارک ممالک کے ٹیچرز اور طلبہ کی طرح مخصوص شہروں کے بجائے پورے ملک کا ویزا دیا جائے اور انہیں پولیس میں رپورٹنگ سے مستثنیٰ رکھا جائے۔ یہ معاملہ ابھی حل نہیں ہوا ہے اور بہت ممکن ہے بھوٹان میں اس ہفتے کے آوخر میں سارک کے سربراہی اجلاس کے دوران اس کا کوئی حل نکل سکے۔

دلی میں ایک جنوبی ایشیائی یونیورسٹی کے قیام کا تصور وزیر اعظم منموہن سنگھ نے2005 میں ڈھاکہ کے سربراہی اجلاس میں پیش کیا تھا اور سارک کے سبھی ملکوں نے اس کی تائید کی تھی۔ اس یونیورسٹی کے قیام کےلیے ایک بین الاحکومتی سٹیرنگ کمیٹی بنائی گئی تھی ۔

پروفیسر چڈھا نے بتایا کہ اس یونیورسٹی کےلیے جنوبی دلی میں اندرا گاندھی یونیورسٹی کے نزدیک سو ایکڑ زمین حاصل کر لی گئی ہے لیکن یونیورسٹی کی تعمیر میں ابھی وقت لگے گا۔

پروفیسرچڈھا نے بتایا کہ جنوبی ایشیائی یونیورسٹی ایک عالمی میعار کی یونیورسٹی ہوگی اور اس کے پہلے مرحلے میں سائنس، سوشل سائنس اور آرٹ وڈیزائن کی دس فیکلٹیز ہونگی۔ 2014 تک جاری رہنے والےاس پہلے مرحلے میں تقریباً پانچ سو اساتذہ ہونگے اور پانچ سے چھ ہزار طلبہ یہاں زیر تعلیم ہونگے ۔

’اسی فی صد ٹیچرز سارک ممالک کے ہونگے اور ان کی تنخواہیں عالمی میعار کی ہونگی۔ یرنیورسٹی میں داخلے کے لیے سبھی سارک ممالک میں ایڈمیشن ٹسٹ ہونگے۔‘

اس تجویز سے اتفاق کیا گیا ہے کہ اس یونیورسٹی میں ہندرستان کےطلبہ کی تعداد پچاس فی صد سے زیادہ نہیں ہوگی۔ باقی پچاس فی صد طلبہ پاکستان، بنگلہ دیش ، نیپال ،سری لنکا ،مالدیپ ، بھوٹان اور افغانستان کے ہونگے۔

Image caption یونیمورسٹی کے انتظامی امور کے انچارج منپریت ووہرا ہیں

یونیورسٹی کے انتظامی امور کے انچارج منپریت ووہرا نے بی بی سی کو بتایا کہ اس یونیورسٹی کا مقصد ایک جنوبی ایشیائی شعور پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آٹھوں ملکوں میں عالمی میعار کی شاید ہی کوئی یونیورسٹی ہوگی۔

انڈیا ، پاکستان اور دیگر سارک ممالک میں اچھے انسٹی ٹیوشن ہیں لیکن انہیں ان معنوں میں عالمی میعار کے ادارے نہیں کہ سکتے جس طرح کے اعلی ادارے مغربی مملک میں ہیں ۔ منپریت ووہرا نے مزید کہا ’یہ سارک ممالک کی ایک اجتماعی کوشش ہو گی ۔ اس میں سہولیات بہت اعلی درجے کی ہونگی ۔ ٹیچر، اسٹوڈنٹ تناسب بہت اچھا ہوگا اور جر فیکلٹی ہو گی وہ بین الاقوامی ہو گی اور بہترین ہو گی۔‘

ساؤتھ ایشین یونیورسٹی کے اکیڈمک اور پلاننگ کے انچارج پرفیسر راجیو کے سکسینہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس یونیورسٹی میں’انسٹی ٹیوٹ آف ساؤتھ ایشین اسٹڈیز‘ ایک بے مثال فیچر ہوگا ۔ اس میں جنوبی ایشیا کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کے ماہرین موجود ہونگے ۔ یہ ایک’تھنک ٹینک‘کے طرز کا انسٹی ٹیوٹ ہوگا ۔’ہمارے مسائل بہت مشترک ہیں ۔ وہ دہشتگردی کا معاملہ ہو، بیماریوں کا سوال ہو، پانی کا مسئلہ ہو یا موسم کی صورتحال کا۔ ان سبھی مسئلہ پر اجتماعی طور پر غور کرنے کا یہ ایک بے مثال ادارہ ہو گا۔‘

اس یونیورسٹی کو باضابطہ شکل دینے کے لیے ہندوستان اور پاکستان سمیت سبھی آٹھوں ملکوں کے تعلیمی ماہرین کام کر رہے ہیں ۔

اسی بارے میں