سزائے موت کے خلاف کشمیر میں ہڑتال

کشمیر میں ہڑتال کی فائل فوٹو
Image caption پولیس نے مظاہروں کے خدشے کے سبب سرینگر کے بیشتر علاقوں میں دفعہ ایک چوالیس کے تحت کرفیو جیسی پابندیا نافذ کردی ہیں۔

بھارتی دارالحکومت دلی کی ایک عدالت کی جانب سے لاجپت نگر بم دھماکہ میں ملوث پائے گئے دو کشمیریوں اور دلّی کے محمد نوشاد کے خلاف سزائے موت کے اعلان پر جمعہ کے روز کشمیر میں ہڑتال کی گئی ہے اور کئی مقامات پر مظاہرے بھی ہو رہے ہیں ۔

پولیس نے مظاہروں کے خدشہ سے سرینگر کے بیشتر علاقوں میں دفعہ ایک چوالیس کے تحت کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کر دی ہیں۔

ہڑتال کی کال معروف علیٰحدگی پسندوں سید علی گیلانی، میر واعظ عمرفاروق اور محمد یٰسین ملک نے دی ہے۔ ان رہنماؤں نے اپنے الگ الگ بیانات میں عدالتی فیصلے کو ’انتہا درجے کی ناانصافی‘ قرار دیا ہے۔

گیلانی اور میرواعظ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ’حکومتِ ہند کشمیریوں سے حق خود ارادیت کا مطالبہ کرنے پر ان سے انتقام لے رہی ہے اور اس انتقامی مشن میں ملک کا عدلیہ حکومت کا ساجھے دار ہے جو افسوس کا مقام ہے‘۔

یٰسین ملک نے اس سلسلے میں بھارتی سِول سوسائٹی سے اپیل کی ہے کہ تمام جمہور اور انصاف نواز حلقے تینوں کشمیریوں کی جان بچانے کے لیے اسی طرح تگ و دد کریں جس طرح سوپور کے رہنے افضل گرو کے خلاف سزائے موت سنائے جانے پر کی گئی تھی۔

Image caption ہڑتال کی کال معروف علیٰحدگی پسندوں سید علی گیلانی، میرواعظ عمرفاروق اور محمدیٰسین ملک نے دی ہے۔

واضح رہے افضل گورو کو بھی ایک عدالت نے دو ہزار ایک میں بھارتی پارلیمنٹ پر ہوئے خودکش حملے میں ملوث پاکر موت کی سزا سنائی تھی۔

مقامی حکومت نے عدالتی فیصلہ کا مطالعہ کرنے کے بعد ردعمل ظاہر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم اپوزیشن پی ڈی پی کی رہنما محبوبہ مفتی نے اسے ’بدقسمتی‘ قرار دیتے ہوئے حکومت ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے طاقت کی بجائے ہمدردانہ طرزِ عمل اپنایا جائے۔

مقامی وکلاء کی تنظیم کشمیر بار ایسوسی ایشن نے ملزموں کو قانونی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس دوران سرینگر کے رہنے والے مرزا نثار اور علی محمد کے لوحقین نے اعلان کیا ہے کہ وہ عدالتی فیصلہ کو دلّی ہائی کورٹ میں چیلنج کرینگے۔

دریں اثنا ہڑتال اور سکیورٹی پابندیوں کی وجہ سے پوری وادی میں عام زندگی معطل ہوکر رہ گئی ہے، سرکاری و نیم سرکاری ادارے، سکول، بینک اور تعلیمی ادارے بند ہیں جبکہ سڑکیں سنسان ہیں۔

شمالی سرینگر کے پولیس سربراہ رشید پال نے بتایا کہ ’نوجوان پرتشدد مظاہروں کا منصوبہ رکھتے تھے اس لیے آمدورفت کو محدود کر دیا گیا ہے‘۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لال چوک کی طرف پرانے سرینگر سے آنے والے تمام راستوں کو سیل کر دیا گیا ہے۔ شہر کے پانچ تھانوں کے تحت آنے والی بستیوں میں کرفیو جیسی صورتحال ہے۔

واضح رہے سال اُنیس سو چھیانوے میں دلّی کے مصروف بازار لاجپت نگر میں ایک بارودی دھماکہ ہوا تھا جس میں پولیس کے مطابق میں تیرہ افراد ہلاک اور اڑتیس زخمی ہوگئے تھے۔ شدت پسندوں نے دلّی سے چرائی گئی ایک گاڑی میں بارودی مواد نصب کرکے اسے اُڑا دیا تھا۔

نئی دلّی میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج ایس پی گرگ نے اس کیس میں محمد نوشاد نامی بھارتی شہری اور دیگر پانچ کشمیریوں کو مجرم قرار دیا ہے۔ اس کیس میں ملوث قرار پائے پانچ کشمیریوں میں وادی کی معروف خاتون علیٰحدگی پسند رہنما فریدہ ڈار عرف ’بہن جی‘ اور فاروق احمد خان بھی شامل ہیں۔ ان دونوں کو ہتھیاروں کی سمگلنگ سے متعلق دفعات میں ملوث پایا گیا ہے تاہم جن دیگر تین کشمیریوں کو موت کی سزا سنائی گئی ہے انہیں سخت ترین جرائم کا مرتکب پایا گیا ہے۔

اسی بارے میں