کتّوں کے لیے خصوصی بلڈ بینک

بھارت میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا بلڈ بینک ہے ہندوستان ميں پہلی مرتبہ خصوصی طور پر کتّوں کے لیے ایک بلڈ بینک بنایا گیا ہے۔

اس بلڈ بینک کا مقصد ان پالتو کتّوں کے لیے خون کی فراہمی ممکن بنانا ہے جو سڑک حادثات میں زخمی ہو جاتے ہیں۔

ان دنوں ہندوستان میں شہری آبادی اور ٹریفک میں اضافے کے سبب اس قسم کے سڑک حادثات عام بات ہو گئی ہے۔

تمل ناڈو کی ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر پی تھنگاراجو نے بی بی سی کو بتایا ’یہ ہندوستان میں اپنی نوعیت کا پہلا بلڈ بینک ہے‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک میں کتّوں کے لیے کوئی بلڈ بینک نہ ہونے کی وجہ سے کئی کتّوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا ’ کتّے اکثر نہ صرف سڑک پار کرتے ہوئے بلکہ پورے ملک میں پائے جانے والے ملٹی سٹوری اپارٹمنٹس کے اردگرد علاقے میں بھی زخمی ہو جاتے ہیں‘۔

تاہم ان کے مطابق لیکن یہ سکیم اس وقت ہی کامیاب ہو سکتی ہے جب کتّوں کے مالک اپنے کّتوں کا خون بینک کو عطیہ کریں۔

مسٹر تھنگاراجو نے بتایاکہ پالتوں کتّوں کے مالکان سے خون عطیہ کرنے کی اپیل کرنے کی مہم کافی کامیاب رہی ہے حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اطمینان بخش مقدار میں خون جمع کرنے میں ابھی وقت لگے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’فی الوقت یونیورسٹی کا ایسا کوئی منصوبہ نہيں ہے کہ وہ اسے کمرشل بنائے حالانکہ مستقبل میں یہ قدم اٹھایا جا سکتا ہے اگر خون بڑی مقدار میں بینک میں جمع ہو جا‏ئے‘۔

ڈاکٹر تھانگاراجو کے مطابق ایک سے آٹھ برس کی عمر اور تقریبا بیس کلو وزن والا کتّا خون عطیہ کر سکتا ہے۔