غیر مسلم کشمیری کنبہ

آج کل کنہ کنبہ کشمیر کے سب سے بڑے فوجی ٹھکانہ بادامی باغ کیمپ کے بغل میں واقع اندرا نگر بستی میں رہائش پذیر ہے اُنسٹھ سالہ گِرجا کنہ وادی کے ایک گمنام مگر دو نسلوں سے علیٰحدگی پسند کی تحریک چلانے والے پنڈت گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔

پرانے سرینگر کے گُرگُری محلہ میں پیدا ہوئی گِرجا نے اپنے والد پریم ناتھ کننہ کو پیدائش کے پندرہ سال تک نہیں دیکھا تھا۔

دراصل پریم ناتھ کو پچاس کی دہائی میں اُس وقت کے وزیراعظم شیخ محمد عبداللہ نے’جلاوطن‘ کردیا تھا اور ان پر چودہ سال تک کشمیر آنے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

ڈیڑھ دہائی بعد گِرجا نے پریم ناتھ کو نئی دلّی کے ویسٹ پٹیل نگرمیں دیکھا تو وہ یہ جان کر حیران ہوگئیں کہ جیل اور جلاوطنی کی سختیاں اُٹھانے کے باوجود پریم ناتھ نئی دلّی میں اُردو روزنامہ مِلاپ کے ذریعہ اپنے نظریات کی تشہیر کررہے ہیں۔

’پاپا جی مختلف ممالک کے سفیروں سے ملاقاتیں کرتے تھے اور انہیں کشمیریوں کی خواہشات کے بارے میں بتاتے تھے۔ دراصل وہ ہندوستان اور پاکستان سے آزادی چاہتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ کشمیریوں کا ملک کشمیریوں کو لوٹا دو۔‘

گرجا کا مزید کہنا ہے کہ پریم ناتھ نے پچاس کی دہائی میں اُس وقت کے کشمیری حکمران شیخ محمد عبداللہ سے دوبدو کہا کہ وہ بھارت کو یہ کہہ کر دھوکہ دے رہے ہیں کہ کشمیری اپنی مرضی سے اس ملک کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔’پاپا جی نے ان خیالات کا پرچار اپنے اخبار مارتنڈ کے ذریعہ کیا جس پر حکومت نے پابندی عائد کی۔ اس کے بعد انہوں نے دھرم سبھا نامی ایک تنظیم بنائی جسکے ذریعہ وہ غریبوں کی بحالی کے لیے عطیہ جمع کرتے تھے اور اس دوران لوگوں کو تحریک آزادی کا درس دیتے تھے۔‘

گرجا کہتی ہیں کہ ان سرگرمیوں کے لیے پریم ناتھ کو جموں کشمیر کے سخت ترین کھٹوعہ جیل میں قید کیا گیا، جہاں وہ چودہ مہینے تک رہے۔

اس کے بعد پریم ناتھ واپس کیوں نہیں آئے؟ گِرجا کہتی ہیں’ کشمیر کے معروف علیٰحدگی پسند لیڈر میرواعظ مولوی فاروق (میرواعظ عمرفاروق کے والد جنہیں بیس سال قبل نامعلوم افراد نے قتل کردیا تھا) دلّی گئے اور پاپاجی سے منت کی کہ واپس آجاؤ اور تحریک کی قیادت کرو، لیکن وہ نہیں مانے۔ دراصل وہ بعض کشمیریوں کی دل بدلی اور تحریک کے تئیں ان کی ناقص کمٹمنٹ پر شرمندہ تھے۔ وہ لیڈری کا شوق نہیں رکھتے تھے، وہ کشمیریوں کا وقار بحال کرنا چاہتے تھے۔‘

اُنیس سو بیاسی میں پریم ناتھ کنہ کی موت کے بعد گرجا کے بڑھے بھائی نے ان کے مؤقف کو تقویت دی۔ لیکن وہ بھی بعض ساتھیوں کی دغابازی سے اس قدر پریشان تھے کہ دماغی توازن کھوبیٹھے۔ اسی حالت میں ان کی موت ہوگئی۔ بعد میں گرجا اپنے دوسرے بھائی ، بھابی اور بڑی بہن کے ہمراہ حبہ کدل کے چار منزلہ مکان میں منتقل ہوگئیں۔

Image caption اُنیس سو بیاسی میں پریم ناتھ کنہ کی موت کے بعد گرجا کے بڑھے بھائی نے ان کے مؤقف کو تقویت دی

اُنیسو سو نواسی کے دوران کشمیر میں مسلح شورش برپا ہوگئی تو تقریباً سارے کشمیری پنڈت وادی چھوڑ کر جموں اور دوسرے بھارتی خطوں میں آباد ہوگئے۔ لیکن کنہ کنبے کو کشمیر سے اس قدر لگاؤ تھا کہ انہوں نے تشدد اور بیشتر پنڈتوں کے قتل کے باوجود یہیں رہنے کو ترجیح دی۔

مسلح افراد کی دھمکیوں اور بعض شرارت پسندوں کی تنگ طلبی کے نتیجہ میں کنہ کنبے نے حبہ کدل میں دو کنال زمین پر تعمیر چار منزلہ مکان صرف ساٹھ ہزار روپے میں بیچ دیا۔

آج کل کنہ کنبہ کشمیر کے سب سے بڑے فوجی ٹھکانہ بادامی باغ کیمپ کے بغل میں واقع اندرا نگر بستی میں رہائش پذیر ہے۔

’مکان تو گیا لیکن ہم نے ٹھان لی تھی کہ کشمیر نہیں چھوڑیں گے۔ پھر ایک مسلمان ہمدرد نے ہمیں صلاح دی کہ ہم شہر کے نواح میں کسی کرایہ کے مکان میں رہیں۔ تب سے ہم یہیں ہیں۔‘

کنہ کنبے نے پچھلے بیس سال میں کافی مصائب جھیلے ہیں۔ گرجا کے بھائی رویندر کنہ محکمہ تعلیم میں ملازم تھے۔ ان کی بیوی بیمار ہوئی اور وہ اسے علاج کے لیے دلّی لے گیا۔ رخصت کی درخواست فیکس کی، لیکن دفتر کے حکام نے اسے نوکری سے برخاست کرکے اس کی جگہ کسی اور کو تعینات کردیا۔ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔

خود گرجا گھریلوں پریشانیوں اور اپنے نظریات کی وجہ سے اس قدر مشکلات سے گھری رہیں کہ وہ شادی بھی نہ کرسکیں۔

ریٹائرمنٹ کے بعد وہ اپنا وقت پالتو کتّوں اور بلیوں کے ساتھ گزارتی ہیں۔ لیکن انہیں اپنے والد کا سیاسی پیغام آج بھی یاد ہے’میں پنڈت ضرور ہوں، لیکن مجھے ہندوستان اور پاکستان سے آزادی چاہیئے۔‘

اسی بارے میں