تابکاری مادہ یونیرسٹی سےکباڑ بازار تک

فائل فوٹو
Image caption دلی میں تابکاری کے اس پہلے واقعے میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے

دلی یونیورسٹی نے شعبہ کیمسٹری کی طرف سے تابکاری مواد کو نیلام کرنے سے متعلق ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے

جوہری امور سے متعلق سرکاری ریگولٹری بورڈ نے اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ دلی کے مایا پوری علاقہ میں جس مادہ سے تابکاری کا واقعہ ہوا تھا وہ دلی یونیورسٹی سے کباڑ کے بازار میں پہنچا تھا۔

دلی کے مشہور مایا پوری کے کباڑ مارکیٹ میں تابکاری سے ایک تاجر سمیت گیارہ افراد جھلس گئے تھے اور بعد میں ایک شخص کی ہسپتال میں موت واقع ہوگئی تھی۔

ماہرین کی کمیٹی اس بات کی تفتیش کریگی کہ آخراس کے شعبہ کمیسٹری سے ’ کوبالٹ16 ‘ مادہ کی نیلامی میں لاپرواہی کیسے برتی گئی۔

یونیورسٹی کے وائس چانسلر دیپک پینٹال نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ انہیں جوہری امور سے متعلق ریگولٹری بورڈ سے پتہ چلا ہے کہ تابکاری مادہ ’ کوبالٹ 16‘ دلی یونیورسٹی کے شعبہ کیمسٹری سے کباڑی بازار میں پہنچا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چونکہ جوہری امور سے متعلق لیب میں کئی برسوں سے اس طرح کے تجربات نہیں ہورہے تھے اس لیے لیب کے تمام سامان کو نیلام کردیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا ایک بات یہ سامنے آئی ہے کہ چونکہ وہ مادہ تقریباً بیالیس برس پرانا تھا اس لیےاسے ڈیڈ مان لیا گیا ہو۔ انہوں نے کہا’تابکاری امور کے ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور اس معاملے کی مکمل تفتیش کے بعد سچ سامنے آجائیگا۔''

پروفیسر دیپک پنٹال نے اس معاملے پر معافی مانگی اور کہا ’اس طرح کی لاپراوہی پیسوں سے نہیں بھری جا سکتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ لیبارٹری میں بہت کچھ سامان ایسا تھا جو ایک زمانے سے استعمال میں نہیں تھا اس لیے چھٹکارہ پانے کے لیے اسے نیلام کیا گیا تھا۔ ’اس میں کچھ غلطی ضرور ہوئی ہے اور نیوکلیئر بائیالوجی کے ماہرین کی کمیٹی اسی کی چھان بین کریگی۔‘

اس سے قبل جوہری امور سے متعلق سرکاری ریگولٹری بورڈ نے اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ دلی کے مایاپوری علاقہ میں جس مادہ سے تابکاری کا واقعہ ہوا تھا وہ دلی یونیورسٹی سے کباڑ کے بازار میں پہنچا تھا۔

دلی کے مشہور مایا پوری کے کباڑ مارکیٹ میں تابکاری سے ایک تاجر سمیت گیارہ افراد جھلس گئے تھے اور بعد میں ایک شخص کی ہسپتال میں موت واقع ہوگئی تھی۔

اس واقعے کے بعد جوہری امور سے متعلق سرکاری ’اٹامک انرجی ریگولٹری بورڈ '' نے اس بازار کا معائنہ کیا تھا اور اس بات کی تفتیش کی جارہی تھی کہ آیا وہ کونسا مادہ تھا اور کہاں سے آیا تھاجس سے تابکاری کا یہ واقعہ رونما ہوا۔

اطلاعات کے مطابق دلی یونیورسٹی نے لیب کے سامان کو نیلام کرتے ہوئے جوہری امور سے متعلق اصول و ضوابط کی پاسداری نہیں کی تھی۔

قوانین کے مطابق اس طرح کی کسی بھی پرانی یا نئی اشیاء کا رکھ رکھاؤ یا اسے منتقل کرنے میں اس سرکاری بورڈ کی نگرانی ضروری ہے اور دلی یونیورسٹی کے حکام نے اس کی پاسداری نہیں کی۔

اسی بارے میں