انڈیا: تابکاری کے پھیلاؤ کی تحقیقات

دلی یونیورسٹی کا کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ جسے بندف کر دیا گیا ہے۔

ہندوستان کے جوہری توانائی کے ریگیولیٹری بورڈ کے سائنسدانوں نے دلی کے ایک کباڑی بازار میں تابکاری کے مادے کی موجودگی کے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

ان خبروں کے بعد کہ دلی کے مایاپوری بازار میں تابکاری کا مزید مادہ موجود ہو سکتا ہے۔ ماہرین کی ایک ٹیم کل رات سے اس کباڑی بازار میں تفصیلی چھان بین کر رہی ہے۔

سائنس دانوں کو یہ تشویش لاحق ہے کہ تابکاری کی جو تین چھوٹی لوہے کی ٹیوبس ملی ہیں اس طرح کی ابھی کئی اور ٹیوبس مارکیٹ میں یا کسی اور جگہ پر ہو سکتی ہیں۔

جوہری ماہرین نے دلی یونیورسٹی میں بھی تفتیش شروع کر دی ہے اور کیمسٹری کی لیباریٹری کو دو ہفتے کے لیے بند کر دیا ہے۔

جمعرات کو دلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر دیپک پینٹل نے ایک نیوز کانفرنس میں اعتراف کیا تھا کہ جوہری تابکاری کا جو مادہ کباڑی بازار سے ملا تھا وہ دراصل ایک مشین تھی جو دلی یونیورسٹی کے کیمسٹری کے شعبے نے بیکار سمجھ کر کباڑیوں کے ہاتھ فروخت کر دی گئی تھی۔

ان کے مطابق تابکاری پیدا کرنے والی یہ خطرناک مشین گزشتہ پچیس برس سے استعمال میں نہیں تھی۔ یہ مشین کینیڈا سے آئی تھی اور یہ کیمسٹری کے شعبے میں تحقیق کے لیے استعمال ہوتی تھی۔

تابکاری کے بارے میں آٹھ اپریل کو اس وقت انکشاف ہوا تھاجب مایاپوری کے بازار میں کئی کباڑی پراسرار طریقے سے بیمار ہو گئے۔ ان میں سے ایک کی موت ہو چکی ہے اور کئی اب بھی زیر علاج ہیں ۔

دلی یونیورسٹی کے ایک پروفیسر رمیش چند نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ تابکاری کے اس واقعے کے لیے کیمسٹری کا شعبہ پوری طرح ذمے دار ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اتنے بڑے واقعے کے بعد صرف اخلاقی ذمے داری قبول کرنے سے بات نہیں بنتی، وائس چانسلر کو فوراً مستعفی ہو جانا چاہیے۔ یہ ایک قومی نوعیت کا معاملہ ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ کیمسٹری کے شعبے کے عملے نے تابکاری کی مشین کو یونیورسٹی کے کیمپس میں بھی دفن کیا ہے جو کافی خطرناک ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر رمیش چند نےبی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے اس جوہری کچرے کو دفن کرنے کے خلاف احتجاج بھی کیا تھا لیکن ان کی کسی نے سنی نہیں۔

ڈاکٹر رمیش کا کہنا ہے کہ اس طرح کی تابکاری سے کینسر جیسی موذی بیماریاں ہو سکتی ہیں اور ایسے ریڈیائی مادوں کا اثر پچاس برس تک باقی رہ سکتا ہے۔

گاما تابکاری کا یہ معاملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہندوستان امریکہ سے جوہری معاہدے کے بعد ملک میں متعد د نئے جوہری ری ایکٹر تعمیر کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ جوہری تابکاری کے تحفظ سے متعلق سخت ضابطوں کی موجودگی کے باوجود اتنی بڑی لغزش ہندوستان میں جوہری اداروں کے منتظمین کے لیے شدید تشویش کا سبب بن گئی ہے۔

جوہری توانائی ریگیولیٹری بورڈ کے چیرمین ایس ایس بجاج نے بی بی سی کو بتایا کہ جوہری تابکاری والے مادوں کی مشین استعمال کرنے کے لیے انتہائی سخت ضابطوں کے تحت کلئرنس لینی پڑتی ہے۔ اس کے لیے وقتاً فوقتاً رپورٹ دینی پڑتی ہے اور بورڈ اس کا معائنہ کرتا رہتا ہے۔

ان کے مطابق ’دلی یونیورسٹی کا معاملہ بہت پرانا اور 70-1969 میں اُس وقت جو ضابطے مروج تھے وہ اتنے سخت نہیں تھے‘۔

اسی بارے میں