ممبئی حملے:مقدمے کا فیصلہ

ممبئی حملوں کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت مبینہ حملہ آور اجمل قصاب اور دو ہندوستانی ملزمان فہیم انصاری اور صباح الدین کے خلاف مقدمے کا فیصلہ تین مئی کو سنائے گی۔

اجمل قصاب

آرتھر روڈ جیل کے گرد سکیورٹی کے انتظامات پہلے سے زیادہ سخت کر دیے گئے ہیں۔

جیل کے اندر اور باہر ہند تبتی سرحدی دستے اور مقامی پولیس کے عملے کے علاوہ ’کویک رسپانس ٹیم‘ اور سٹیٹ ریزرو پولیس فورس کا عملہ بھی تعنیات کیا گیا ہے۔

پولیس کے اعلیٰ افسران نے بھی جیل کے اطراف سکیورٹی کا جائزہ لیا۔ ان کے مطابق ذرائع ابلاغ کو سنبھالنا بھی ایک مشکل کام ہو گا۔

تفصیلات کے مطابق چھبیس نومبر سن دو ہزار آٹھ کو ممبئی پر مبینہ طور پر پاکستان سے آئے دس حملہ آوروں نے شہر کے مختلف مقامات پر بیک وقت حملے کیے۔ ان حملوں میں ایک سو چھیاسٹھ افراد ہلاک اور تین سو چار افراد زخمی ہوئے تھے۔

ہلاک ہونے والوں میں پچیس غیر ملکی باشندے شامل تھے۔ حملہ آوروں نے سی ایس ٹی ریلوے سٹیشن، ہوٹل تاج اور ہوٹل ٹرائیڈینٹ ( اوبیرائے ) کیفے لیوپولڈ ، یہودیوں کے زیر استعمال عمارت ناریمن ہاؤس، کاما ہسپتال اور میٹر جنکشن پر حملے کیے۔

حملہ آوروں نے تقریباً تین دن تک ہوٹل تاج اور ٹرائیڈینٹ میں لوگوں کو یرغمال بنائے رکھا تھا۔

مقامی پولیس کے علاوہ دِلی سے طلب کردہ این ایس جی کمانڈوز نے آپریشن کے بعد لوگوں کو رہا کیا اور اس آپریشن میں نو حملہ آور ہلاک ہوئے البتہ پولیس نے اجمل قصاب کو مبینہ طور پر گرگام چوپاٹی سے گرفتار کر لیا تھا۔

قصاب پر استغاثہ نے ملک کے خلاف جنگ کرنے، قتل، اقدام قتل کے علاوہ تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت چھیاسی الزامات عائد کیے تھے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان تمام الزامات کو عدالت نے قبول کر لیا یعنی وہ ثابت ہوئے تو قصاب کو پھانسی کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

ہندوستانی ملزمان فہیم اور صباح پر شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ کو ممبئی کے ان مقامات کا نقشہ فراہم کرنے کے الزامات ہیں جن پر حملہ آوروں نے حملے کیے تھے۔ ان کے خلاف بھی ملک کے خلاف جنگ کرنے اور شدت پسند تنظیم کی مدد کرنے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں جو اگر ثابت ہوئے تو انہیں بھی موت کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

ہندوستان کی تاریخ میں دہشت گردی کے خلاف دائر مقدمات میں سے یہ مقدمہ شاید تاریخ کا ایسا پہلا مقدمہ بن جائے گا جس کی عدالت نے بہت کم عرصہ میں سماعت مکمل کر لی اور اب فیصلہ سنائے گی۔

اس خصوصی عدالت نے دو سو اکہتر دن مقدمے کی سماعت کی۔ استغاثہ نے عدالت میں دو سو چھیانوے گواہان کی گواہی ریکارڈ کی اور بقیہ تین سو ستاون گواہان کی گواہی کو حلف نامے کے ذریعہ عدالت کے سامنے پیش کیا۔ عدالت نے استغاثہ کے ذریعہ پیش کردہ ثبوتوں کو تین ہزار ایک سو بانوے صفحات پر درج کیا ہے۔

استغاثہ نے فروری میں عدالت میں گیارہ ہزار صفحات پر مشتمل فرد جرم داخل کی جس میں قصاب پر چھیاسی الزامات عائد کیے گئے۔

پندرہ اپریل کو خصوصی جج ایم ایل تہیلیانی نے عدالتی کارروائی کا آغاز کیا۔ قصاب کے لیے عدالت نے ایڈوکیٹ عباس کاظمی کو نامزد کیا جنہیں مقدمہ کی سماعت کے ہی دوران عدالت نے برطرف بھی کر دیا تھا اب ان کے جونیر وکیل کے پی پوار قصاب کی پیروی کر رہے ہیں۔

عدالت میں قصاب نے کہا کہ وہ بے قصور ہے۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران عدالت نے بیس جون کو پاکستانی کے بائیس مفرور ملزمان کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا۔ ان میں لشکر طیبہ کے چیف آپریشن کمانڈر ذکی الرحمن لکھوی اور جماعت الدعوۃ کے چیف حافظ سعید کا بھی نام شامل ہے۔

مقدمہ کی سماعت کے دوران ہی جولائی میں قصاب نے کہا کہ اسے اپنے تمام گناہ قبول ہیں لیکن عدالت نے مقدمہ جاری رکھا۔

مقدمہ کی سماعت کے اختتام پر قصاب نے اپنا بیان واپس لے لیا اور کہا کہ وہ بے قصور ہیں اور پولیس پر الزام عائد کیا کہ انہیں پولیس نے پھنسایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی تحویل میں ان سے جبری طور پر اذیت دینے کے بعد بیان لیا گیا تھا۔

قصاب نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ وہ ممبئی فلمیں دیکھنے اور تفریح کے لیے آئے تھے اور پولیس نے انہیں حملے سے بیس روز قبل گرفتار کر لیا تھا۔ مقدمہ کے دوران ممبئی حملوں کے ملزم فہیم کے وکیل شاہد اعظمی کو چند افراد نے قتل کر دیا۔

سرکاری وکیل اجول نکم نے عدالت کے سامنے گلوبل پوزیشننگ سسٹم ( جی پی ایس) اور وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول کے ذریعہ موبائیل فون کی ریکارڈ گفتگو بطور ثبوت پیش کیے ہیں۔ ساتھ ہی کشتی سے ضبط اشیاء اور ان کی ڈی این اے رپورٹ بھی بطور ثبوت عدالت میں پیش کیے گئے ہیں۔

ہندوستان میں تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی مقدمے میں امریکی تفتیشی ایجنسی فیڈرل بیورو آف انوسٹی گیشن کے اہلکار عدالت کے روبرو بطور گواہ پیش ہوئے اور چند نے بطور ویڈیو کانفرنسنگ گواہی دی۔

استغاثہ نے سی ایس ٹی ریلوے سٹیشن اور انگریزی اخبار کے دفتر اور اس کی گلی میں لگے سی سی ٹی وی فٹیج کے ساتھ فوٹوگرافروں کے ذریعہ کھینچی گئی تصاویر کو بھی بطور ثبوت پیش کیا ہے۔

مقدمہ کے اختتام پر جرح کے دوران قصاب کے وکیل کے پی پوار نے کہا تھا کہ ان کا موکل بے قصور ہے اور انہیں حملے سے بیس روز قبل پولیس نے گرفتار کیا تھا۔

اکتیس مارچ کو اس مقدمہ کی سماعت مکمل کر لی گئی اور جج تہیلیانی نے تین مئی کو فیصلہ کا دن مقرر کیا۔

اسی بارے میں