ابھی لمبی لڑائی باقی ہے: یاسمین

یاسمین
Image caption یاسمین شوہر فہیم کے بری ہونے سے بہت خوش ہیں

''میری آٹھ سالہ بچی اقرا نے ٹی وی دیکھنے کے بعد مجھ سے سوال کیا کہ اب تو ابّا چھوٹ چکے ہیں وہ گھر کب آئیں گے؟ یہ سن کر میں حیران ہوگئی کیونکہ میری بچی نے گزشتہ دو برسوں میں کبھی اپنے ابّا کے بارے میں نہیں پوچھا تھا اور مجھے لگا تھا کہ وہ نادان ابھی یہ نہیں جانتی کہ اس کے والد جیل میں ہیں۔‘

یاسمین اس وقت بے انتہا خوش ہے۔ ''گھر والے سب خوش ہیں لیکن میری خوشی کی انتہا نہیں ہے۔''

ممبئی حملے کے مقدمہ کی سماعت کرنے والی عدالت نے یاسمین کے شوہر اور اس کیس کے دوسرے ملزم فہیم انصاری کو ناکافی ثبوتوں کی بناپر بری کر دیا ہے۔

فہیم پر الزام تھا کہ انہوں نے ممبئی کے ان مقامات کا نقشہ بنایا تھا جن پر لشکر طیبہ کے اراکین نے چھبیس نومبر کو حملہ کیا۔

عدالت جس دن فیصلہ سنانے والی تھی اس سے پہلے کی رات یاسمین کے لیے بہت طویل تھی۔ ’نیند نہیں آرہی تھی، پوری رات نہیں سو سکی، تین بجے اٹھ کر میں نے تہجد کی نماز پڑھی۔ خدا سے رو کر دعا مانگی پھر فجر کی نماز پڑھی۔ پھر گھر کے کام نمٹا کر عدالت کے لیے نکل پڑی۔ میری حالت دیکھ کر عدالت میں بیٹھے میرے شوہر نے اشارہ سے میری طبیعت کے بارے میں پوچھا تھا‘۔

یاسمین کو انگریزی نہیں آتی لیکن انہیں عدالت میں اس وقت کچھ سمجھ میں آگیا کہ جج نے ان کے شوہر کو بری کردیا ہے۔ ’جج نے مجھے اپنے شوہر سے ملاقات کے لیے دس منٹ کا وقت دیا تھا۔ اور میں ان کے سامنے خوشی سے رو پڑی۔ انہوں نے سمجھایا کہ ہمت مت ہارنا میں اس کیس سے بھی بری ہو جاؤنگا‘۔

ممبئی کے مغربی مضافات گوریگاؤں میں پختہ چالیوں میں سے ایک مکان میں یاسمین اپنے دو بڑے جیٹھوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ رہتی ہیں۔ ممبئی کرائم برانچ فہیم کو رام پور کی جیل سے ممبئی لائی تھی۔ فہیم پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر رام پور میں کیمپ پر حملہ کیا تھا۔

یاسمین بتاتی ہیں کہ ان کے شوہر کسی کام سے لکھنو گئے تھے لیکن پھر گھر والوں کو خبر ملی کہ انہیں پولیس نے حملے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ ’ہماری مالی حات ٹھیک نہیں تھی اس لیے میں اور میرے گھر والے گرفتاری کے آٹھ ماہ بعد ان سے ملنے بریلی پہنچے ان سے ملاقات بھی کی اور جب ہوٹل پہنچے تو پتہ چلا کہ پولیس نے فہیم کو ممبئی حملے میں ملوث قرار دیا ہے‘۔

یہ خبر یاسمین اور ان کے گھر والوں کے لیے صدمہ سے کم نہیں تھی۔ ’ہم لوگ ٹوٹ چکے تھے۔ ایک تو رام پور کیس کی وجہ سے اور پھر اوپر سے چھبیس گیارہ سب سے بڑا کیس، ہمت ٹوٹ گئی‘۔

یاسمین کے لیے ان کی تکلیف اور مصائب کا دور اسی وقت سے شروع ہوا جب پولیس نے فہیم کو پہلی مرتبہ دس فروری سن دو ہزار آٹھ میں گرفتار کیا تھا۔ پولیس جب فہیم کو ممبئی لائی تو یاسمین جن کے مطابق وہ شادی سے پہلے اور بعد میں بھی کبھی گھر سے تنہا نہیں نکلی تھیں، عدالت کے چکر کاٹنے لگیں۔

یاسمین فہیم کے لیے اور فہیم یاسمین کے لیے حوصلہ بن گئے تھے۔ یاسمین بس ٹرین اور کبھی پیدل عدالت پہنچ جاتی تھیں۔ یاسمین کہتی ہیں کہ حالانکہ انہیں ان کے شوہر سے ملاقات کرنے نہیں دیا جاتا تھا لیکن وہ اپنے شوہر کو دیکھ کر اور ان کے شوہر اپنی بیوی کو دیکھ کر جینے اور لڑنے کا حوصلہ حاصل کر لیتے تھے۔

یاسمین کہتی ہیں کہ انہیں عدالت سے جب بھی شوہر کے ساتھ پانچ یا دس منٹ ملاقات کرنے دی جاتی، پولیس ان کے اطراف موجود رہتی تھی۔ یاسمین فہیم اور ان کے وکیل کے لیے رابطہ کار بن چکی تھیں۔

یہ ڈیڑھ برس یاسمین نے کیسے گزر بسر کی اس پر یاسمین کہتی ہیں کہ وہ لوگوں کے کپڑے سیتی ہیں۔ عدالت جانا تھا اس لیے عدالت سے واپس آ کر روزانہ دو جوڑے کپڑے سی لیتی تھیں اس سے انہیں دو سو روپیہ مل جاتے تھے لیکن کبھی ایک ہی جوڑا سی پاتی تھیں۔ اسی میں سے وہ عدالت جانے اور اپنی بچی کی سکول کی فیس دیا کرتی تھیں۔

یاسمین اپنے سسرال والوں کا شکر ادا کرتی ہیں کہ گزر بسر میں کمی کو اکثر وہ پوار کرتے تھے اس لیے وہ گھر میں لفافے بنانے میں ان کا ہاتھ بھی بٹاتی ہے۔

زندگی کی اس لڑائی میں یاسمین کا کئی مرتبہ حوصلہ ٹوٹا۔ وکلا کو دینے کے لیے فیس نہیں تھی۔ کسی نے کروڑوں روپیہ مانگے تو کسی نے لاکھوں کی بات کہی۔ اتنی استطاعت نہیں تھی پھر تنظیم جمعیت علما کے صدر ارشد مدنی نے ساتھ دیا اور وکیل شاہد اعظمی نے ہمارے کیس کی پیروی شروع کی۔

یاسمین کی ہمت دوسری مرتبہ اس وقت ٹوٹی جب شاہد اعظمی کو کچھ لوگوں نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ ’خبر سن کر لگا جیسے پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ برداشت کی طاقت ختم ہو گئی۔ کس نے کس لیے انہیں مارا پتہ نہیں لیکن لوگ کہتے ہیں کہ اس طرح کے کیس لڑنے کی وجہ سے انہیں مار ڈالا گیا ہو گا‘۔

فہیم اور یاسمین کی آٹھ سالہ بیٹی اقرا اب تیسری جماعت میں داخل ہوئی ہے۔ یاسمین کہتی ہیں کہ وہ بہت ہی حساس لڑکی ہے۔ ’وہ بیت کم گو ہو چکی ہے۔ اس نے مجھے کبھی پریشان نہیں کیا۔ شاید اللہ نے اسے صبر دے دیا ہو۔ وہ خود سے سکول جانے کے لیے تیار ہو جاتی ہے خود سے ٹیوشن جاتی ہے۔ ایسے میں جب ایک بیٹی کو ماں کی ضرورت ہوتی ہے، وہ تنہا رہ گئی ہے کیونکہ مجھے اپنی بچی کے لیے اس کے باپ کو گھر واپس لانا ہے۔ ایک اور لمبی لڑائی لڑنی باقی ہے‘۔

اسی بارے میں