اجمل قصاب کو موت کی سزا

اجمل قصاب
Image caption قصاب پر قتل عام اور ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے جیسے الزامات ہیں

ممبئی حملوں کے مجرم اجمل امیر قصاب کو ممبئی کی خصوصی عدالت کے جج ایم ایل تہیلیانی نے موت کی سزا سنائی ہے۔

جج نے قصاب کو چار جرم میں پھانسی دینے کا اعلان کیا۔ ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے ، سازش رچنے ، بڑے پیمانے پر قتل کرنے اور غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہو کر دہشت گردی پھیلانے کے جرم میں پھانسی کی سزا دی۔ دیگر جرائم کے لیے قصاب کو پانچ مرتبہ عمر قید کی سزا دی گئی۔

جس وقت جج اپنا فیصلہ سنا رہے تھے ، قصاب عدالت میں مجرموں کے کٹہرے میں خاموش بیٹھے رہے ۔ آنکھوں میں آنسو لیے قصاب نے جج سے پانی پینے کی اجازت مانگی۔

جج تہیلیانی نے قصاب کو سزا سنانے کے دوران کہا کہ اس شخص نے جو کام کیا ہے اس سے اسے معافی نہیں دی جا سکتی۔ جج نے قندھار ہائی جیک واقعہ کی مثال دی۔ جج نے کہا کہ قصاب نے عدالت میں ایک مرتبہ بھی پچھتاوا ظاہر نہیں کیا۔ جج نے موت کی سزا پر اپنے ریمارک دیتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں معافی دی جاتی ہے تو یہ سماج کے لیے خطرہ ہو سکتے ہیں۔

عدالت کے اس فیصلہ سے خوش سرکاری وکیل نے عدالت کے باہر صحافیوں سے کہا کہ ' میں عدالت کے اس فیصلہ سے خوش ہوں اور اس لیے بھی خوشی ہے کہ عدالت نے قصاب کو پھانسی دینے کے میرے تمام دلائل کو قبول کیا۔

نکم نے کہا کہ یہ کیس ان کے لیے ایک چیلنج تھا اور دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک میں ہم بہت ہی وقار کے ساتھ کھلی عدالت میں مقدمہ چلا کر ایک مثال قائم کی ہے۔

نکم نے مزید کہا کہ مقدمہ کی سماعت کے دوران قصاب نے اپنا جرم قبول کرنے کا ناٹک کیا تھا لیکن ہم نے اسے قبول نہیں کیا اور مقدمہ جاری رکھا کیونکہ اگر ہم اسے اس وقت ختم کر دیتے تو پھر ہم قصاب کے لیے پھانسی کی سزا کا مطالبہ کرنےکا حق کھو سکتے تھے۔

سرکاری وکیل نے دہشت گردی کے بارے میں کہا کہ کوئی بھی مذہب یا دھرم اس کی حمایت نہیں کرتا ہے اور آتنک وادی( دہشت گرد ) انسانیت کے دشمن ہوتے ہیں۔

جج کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے بعد جب وکیل نے اجمل قصاب سے پوچھا کہ وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں تو انہوں نے اپنا سر ہلادیا اور اپنے آنسو پوچھنے لگے۔

جج نے کہا ہے کہ قصاب خود ایک مجاہدین بننا چاہتا تھا، اس نے شدت پسندی کے ٹریننگ کمیپس میں تربیت لی ہے، وہ نوافراد کے ساتھ ممبئی آیا، ٹیکسی میں بم رکھے اور معصوم لوگوں پر بغیر سوچے سمجھے گولیاں چلائیں

قصاب کی اس پھانسی کی سزا کے حکم کو ہائی کورٹ سے منظوری کے بعد ہی منظور مانا جائے گا۔

شہر بھر میں لوگ اس فیصلہ کے بعد خوشیاں مناتے نظر آرہے ہیں۔۔

اسی بارے میں