کشمیرمیں جھڑپیں، سات ہلاک

فائل فوٹو
Image caption کشمیر میں حالیہ دنوں میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے

بھارت کے زیرِانتظام کشمیر کے شمالی ضلع بارہمولہ میں رفیع آباد قصبہ کے دو الگ الگ مقامات پر جمعہ کی صبح مسلح تصادم میں دو فوجی اور پانچ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

فوج نے وسیع علاقہ کو گھیرے میں لے کر تلاشی مہم شروع کردی ہے۔

سرینگر میں تعینات فوج کی پندرہویں کور کے ترجمان لیفٹنٹ کرنل ایچ ایس برار نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاس ’پہلا تصادم کل رات رفیع آباد کے ہاپت نار جنگل میں ہوا جہاں شدت پسندوں کے حملے میں ایک فوجی مارا گیا۔ وہاں سے شدت پسند فرار ہوگئے، تاہم انہیں فوج نے ڈنگی وچھہ کے قریب گھیر لیا۔ یہاں ہوئے تصادم میں پانچ شدت پسند مارے گئے۔ یہاں بھی ہمارا ایک جوان مارا گیا۔‘

فوجی ترجمان کے مطابق خفیہ اطلاعات ملنے پر پچھلے چار روز سے ہاپت نار جنگلات میں شدت پسندوں کی کمین گاہوں کو تلاش کرنے کا آپریشن جاری تھا۔ انہوں نے بتایا ’دراصل چھہ مسلح شدت پسندوں کا نیا گروپ جنگل میں داخل ہوا تھا، لیکن اب ان میں سے صرف ایک بچا ہے، جسے ہم ڈھونڈ رہے ہیں۔‘

ترجمان نے واضح کیا کہ یہ دراندازی کا واقعہ نہیں تھا بلکہ آبادی والے علاقے کے قریب جنگلات میں تصادم ہوا تھا۔ فوج نے رفیع آباد کے نواحی جنگلات میں مزید دستوں کو تعینات کرکے ایک ہمہ جہتی تلاشی مہم شروع کردی ہے۔

واضح رہے کہ پچھلے تین روز میں مسلح شدت پسندوں اور فوج کے درمیان دوسرا بڑا تصادم ہے۔ اس سے قبل بانڈی پورہ کے چٹھے بانڈے جنگلات میں شدت پسندوں نے گھات لگا کر ایک فوجی افسر اور سپاہی کو ہلاک کیا تھا اور فرار ہوگئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق شمالی کشمیر کے مختلف جنگلی خطوں میں فوج نے گشت تیز کردیا ہے۔

اس دوران پولیس نے مرکزی وزارت داخلہ کو ایک رپورٹ بھیجی ہے جس میں دراندازی کے اکیس نئے راستوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس سال گرما میں شدت پسند اپنی کارروائیاں تیز کریں گے۔

اسی بارے میں