جنسی حملے کا الزام، سابق وزیرگرفتار

ہرتال ہلپا نے گزشتہ ہفتے استعفٰی دے دیا تھا بھارت کی جنوبی ریاست کرناٹک کے ایک سابق وزیر کو جنسی حملے کے الزامات سامنے آنے کے بعدگرفتار کر لیا گیا ہے۔

ہرتال ہلپّا بی جے پی حکومت میں وزیرِ خوراک رہ چکے ہیں اور ان کے ایک دوست کی اہلیہ نے ان پر جنسی حملے کا الزام عائد کیا ہے۔

ہرتال نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے سیاسی مخالفین انہیں پھنسانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان الزامات کے بعد ہرتال ہلپا نے گزشتہ ہفتے استعفٰی دے دیا تھا اور انہوں نے اتوار کو خود کو پولیس کے حوالے کیا۔ انہیں پیر کو بنگلور میں عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

نامہ نگاروں کے مطابق یہ واقعہ بی جے پی حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث بنا ہے اور ہرتال ہلپا کے مطابق خود ان کی جماعت کے کچھ رہنما انہیں پھنسانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے گزشتہ ہفتے مستعفی ہوتے ہوئے کہا تھا کہ وہ حکومت کو شرمندگی سے بچانے کے لیے استعفٰی دے رہے ہیں اور اگر ’صحیح تحقیقات‘ ہوئیں تو وہ خود پر لگے اس الزام کو دھو ڈالیں گے۔

بی جے پی کے سابق وزیر پر الزام عائد کرنے والی خاتون کا کہنا ہے کہ جنسی حملے کا یہ واقعہ گزشتہ نومبر میں پیش آیا تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہرتال ہلپا نے انہیں اور ان کے خاوند کو اس واقعے کو چھپانے کو کہا تھا اور ایسا نہ کرنے پر دھمکیاں بھی دی تھیں۔

خاتون کا کہنا ہے کہ ’انہوں نے مجھ سے زبردستی جنسی عمل کرنے کی کوشش کی۔ میں نے مزاحمت کی۔ جب میرے شوہرگھر واپس آئے تو انہوں نے مجھے روتے دیکھا۔ وہ اپنے غصے پر قابو نہ رکھ سکے اور انہوں نے ان(ہرتال) کی پٹائی کی۔ میں نے بھی اس کی پٹائی کی‘۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت انہیں تحفظ فراہم نہ کرتی تو ان کی جان کو خطرہ تھا۔