آخری وقت اشاعت:  بدھ 12 مئ 2010 ,‭ 12:27 GMT 17:27 PST

ہندو شدت پسند کتنے خطرناک؟

میڈیا پلئیر

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

ہندوستان میں مرکزی تفتیشی بیورو نے گزشتہ دنوں کہا کہ تین سال پہلے اجمیر شریف میں ہونے والے بم دھماکے کے سلسلے میں جن ہندو شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا ہے، ان کا تعلق مالیگاؤں اور حیدرآباد کی مکہ مسجد کے دھماکوں سے بھی ہوسکتا ہے۔ سی بی آیی کے بیان کے بعد ظاہر ہے کہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر شواہد نہ ہونے کے باوجود تفتیش کاروں نے مسلمان نوجوانوں کو ہی کیوں گرفتار کیا اور یہ ہندو ریڈکل تنظیمیں کتنی خطرناک ہیں۔دلی سے سہیل حلیم کی رپورٹ

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔