بی جے پی صدر کے بیان پر تنازعہ

بھارتیہ جنتا پارٹی کے نئے صدر نتن گٹکری نے سماجوادی پارٹی کے رہنما ملائم سنگھ یادو اور لالو پرساد کے متعلق جو بیانات دیے ہیں اس سے ایک نیا تنازعہ پیدا ہو گیا ہے۔

نتن گٹکری
Image caption نتن گٹکری بی جے پی کے نئے صدر ہیں

چندي گڑھ میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نتن گٹکری نے کہا تھا کہ لالو پرساد اور ملائم سنگھ یادو مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی سے ڈرتے ہیں۔

حالیہ پارلیمانی اجلاس کی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر گٹکری نے کہا کہ دکھانے کے لیے تو یہ دونوں رہنما بڑے بہادر بنتے ہیں لیکن ڈر کے سبب کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کے تلوے چاٹنے پر مجبور ہیں۔

سماجوادی پارٹی کے ترجمان موہن سنگھ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’اتنے بڑے عہدے پر بیٹھے لوگ اگر اس طرح کی زبان استعمال کریں گے تو اس سے سیاسی ماحول پراگندہ ہوگا اور یہ ملک کی جمہوریت کے اچھی بات نہیں ہے۔‘

سماجوادی پارٹی اور ملائم سنگھ کی جماعت نے اس کے خلاف مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ دونوں جماعتوں کے کارکنان نے بعض جگہ احتجاجی مظاہرہ بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ نتن گٹکری کو اس کے لیے معافی مانگنی چاہیے۔

اس طرح کے احتجاج کے بعد نتن گٹکری نے ایک ٹیلی ویژن چینل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایسے الفاظ بطور محاورہ استعمال کیے تھے اور اگر اس سے انہیں تکلیف پہنچی ہے تو ’میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں۔‘

ریاست اتر پردیش اور بہار میں ان دونوں جماعتوں نے نتن گٹکری کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

کانگریس پارٹی نے بھی اس مسئلے پر مسٹر گٹکری پر یہ کہہ کر سخت نکتہ چینی کی ہے کہ نتن گٹکری دلی میں آر ایس ایس کے نمائندے کے طور پر کام کرتے ہیں اور ان کی زبان سے لگتا ہے کہ ان کی پرورش کس طرح کے ماحول میں ہوئی ہے۔

اسی بارے میں