کامن ویلتھ گیمز:غریبوں کے فنڈز کااستعمال

ہندوستان میں ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملک میں غربت کے خاتمے کے لیے مختص کروڑوں ڈالر کی رقوم کو دلی میں کامن ویلتھ گیمز کے انعقاد کی مد میں منتقل اوراستعمال کیا گیا ہے۔

فائل فوٹو، بھارتی خاتون

گھروں اور زمین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ کی جانب سے جاری ہونے والی اس رپورٹ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ سرکاری دستاویزات پر مبنی ہے جو بھارت میں معلومات تک رسائی کے ایکٹ کے تحت حاصل کیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کرڑوں ڈالر کی رقوم جو غیر مراعات یافتہ نچلی ذات کی برداریوں کو غربت سے نکالنے کے منصوبوں کے لیے مختص کی گئی تھی اسے کامن ویلتھ گیمز کی تیاریوں کی مد میں منتقل اور استعمال کیا گیا ہے۔

دلی میں سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ وہ ان الزامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ دلی میں کامن ویلتھ گیمز رواں سال اکتوبر میں منعقد ہو رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کامن ویلتھ گیمز میں مختص کیے گئے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ صرف کھیلوں کے ڈھانچے کے لیے جو ابتدائی تخمیہ لگایا گیا تھا اس میں دو ہزار فیصد اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے ک گیمز سے وابسطہ منصوبوں کے سلسلے میں ایک لاکھ غریب خاندانوں کو بے دخل کیا جا چکا ہے اور مزید چالیس ہزار خاندانوں رواں سال اکتوبر میں کامن ویلتھ گیمز شروع ہونے سے پہلے بے گھر ہونے پر مجبور ہو جائیں گے۔

گروپ کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں ایک غیر جانبدار انکوائری ہونی چاہیے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ ایسا کرنے کی اجازت کیوں دی گئی تھی۔

اس رپورٹ کو جاری کرنے والے ملن کوتھاری اقوام متحدہ کے سابق اہلکار ہیں۔ انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دلی کو ایک عالمی معیار کا شہر دیکھانے کے لیے اور کھیلوں کے حوالے سے ایک بین الاقوامی مقام کا درجے دینےکے لیے حکومت کی اپنے لوگوں سے کیے گئے اخلاقی اور قانونی وعدے سے نظریں ہٹ گئی۔

اسی بارے میں