کشمیر:شدت پسند پاکستانی بیوی سمیت گرفتار

اشرف
Image caption اشرف ہتھیاروں کی تربیت کے باوجود اب پر امن زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں فوج نے ایک کشمیری نوجوان کو اس کی پاکستانی بیوی سمیت کنٹرول لائن عبور کرنے کی کوشش میں گرفتار کر لیا ہے۔

یہ گرفتاری پونچھ کے سواجیاں سیکٹر سےگرفتار کیا گیا ہے۔

فوج نے ان دونوں افراد کو پولیس کے سپرد کردیا ہے جس کے بعد عدالت نے انہیں سات روز کی ریمانڈ کے تحت پولیس تحویل میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔

فوج کی شمالی کمان کے ایک ترجمان نے بی بی سی اردو کے ریاض مسرور کو بتایا ہے کہ کشمیر کے وسطی ضلع بڈگام کے رہنے والے تیس سالہ نوجوان محمد اشرف اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے کھچربان گاؤں کے محمد سبحان کی بیٹی اسماء کو غیرقانونی دراندازی کے دوران گرفتار کیا گیا ہے۔

پونچھ کے سینئر پولیس افسر منموہن سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ تفتیش کے دوران اشرف نے اعتراف کیا ہے کہ وہ حزب المجاہدین تنظیم کے زُبیر نامی کمانڈر کے کہنے پر تیرہ سال قبل ہتھیاروں کی تربیت کے لیے سرحد پار گیا تھا۔

پولیس کے مطابق اشرف اور اسماء کے درمیان کافی دیر سے مراسم تھے اور اس نے تربیتی کیمپ میں دیگر ساتھیوں کو بتائے بغیر اس لڑکی کے ساتھ شادی کر لی تھی۔

Image caption اسماء کا تعلق پاکستان کے زیرانتظام کشمیر سے ہے

پونچھ کے ایک پولیس تھانہ میں پولیس نے دونوں کو میڈیا کے سامنے بھی پیش کیا۔ اشرف نے نامہ نگاروں کو بتایا ’میں اسماء سے پیار کرتا ہوں، ہم نے چار ماہ قبل شادی کی تھی۔ میں نے سُنا کہ یہاں کی حکومت پاکستان جانے والے نوجوانوں کی بحالی چاہتی ہے تو میں کچھر بان کیمپ سے فرار ہوگیا۔ ہم دونوں نے سوچا کہ باقی کی زندگی پُرامن طور پر بڈگام میں گزاریں گے۔ لیکن یہاں ہم دونوں کو قید کرلیا گیا‘۔

اسما نے بتایا کہ دونوں کی شادی ان کے والدین کی رضامندی سے ہوئی ہے۔

اشرف کا کہنا تھا کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ایسے ہزاروں متعدد کشمیری نوجوان ہیں جو ہتھیاروں کی تربیت تو حاصل کرچکے ہیں لیکن وہ تشدد کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔

گھر واپسی کے خواہشمند ایسے ہی نوجوانوں کے لیے جموں و کشمیر کی حکومت نے بحالی کا ایک منصوبہ بنایا ہے۔ اس منصوبہ کے تحت تشدد کا راستہ ترک کرنے والے شدت پسندوں کی کشمیر واپسی کو آسان بنانے اور انہیں یہاں کسی روکاوٹ کے بغیر روزگار کے وسائل مہیا کرنے کا اعلان خود وزیراعلیٰ نے کیا تھا۔ لیکن ابھی تک اس منصوبے کو حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔

عمرعبداللہ کی کابینہ میں ایک سینئر وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ابھی ہم اس سلسلے میں مرکزی حکومت کے ساتھ صلاح مشورہ کررہے ہیں۔ ابھی تو کنٹرول لائن پر واپسی کے مقام (کراسنگ پوائنٹ) کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے‘۔

اسی بارے میں