’نکسل پالیسی کا تجزیہ ضروری ہے‘

پیر کو نکسلی حملے میں 35 افراد ہلاک ہوئے تھے ہندوستان کے وزیر داخلہ پی چدامبرم نے کہا ہے کہ حکومت کو نکسلی مخالف مہم کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے یہ بات گزشتہ روز ریاست چھتیس گڑھ میں ہوئے نکسلی حملے کے بعد کہی ہے۔ اس حملے میں کم از کم پینتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے جن ميں بچے اور خواتین بھی شامل تھے۔

نکسلیوں نے ایک بس پر حملہ کیا تھا جس میں عام مسافروں کے علاوہ پولیس اور سیکورٹی اہلکار بھی سوار تھے۔

ایک ٹی وی چینل سے بات چیت میں پی چدامبرم نے کہا ہے کہ ہمیں ایک بار پھر نکسل مخالف مہم پر بات کرنی ہوگی۔ چدامبرم نے کہا کہ نکسلی سکیورٹی دستوں اور عام شہریوں میں کوئی فرق نہیں سمجھتے ہیں۔

نکسلیوں کے خلاف آپریشن میں فضائیہ اور فوج سے مدد لینے کے سوال پر پی چدامبرم نے کہا ’سکیورٹی دستے اور ریاستی وزیرِاعلٰی فضائیہ کی مدد چاہتے ہیں‘۔

واضح رہے کہ ہندوستان کی حکومت نے نکسلیوں کے خلاف ’آپریشن گرین ہنٹ‘ نامی مہم چلائی ہے۔

حال ہی میں چھتیس گڑھ کے پولیس ڈائریکٹر جنرل نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ نکسلیوں نے سڑک کی تعمیر کے وقت ہی زمین کے اندر بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں اور وہ وقتاً فوقتاً دھماکے کر سکتے ہیں۔.

دانتے واڑے کا علاقہ نکسلی اثر میں ہیں اور حال ہی اسی علاقے میں انہوں نے چھہتر سکیورٹی اہلکاروں کو مار ڈالا تھا۔

اسی بارے میں