دانتے واڑہ حملہ: چھ گرفتار

ہندوستانی سیکورٹی
Image caption گزشتہ دنوں ماؤنواز باغیوں کے حملوں میں شدت آئی ہے

ہندوستان کی ریاست چھتیس گڈھ کے دانتے واڑہ علاقے میں گزشتہ ماہ ماؤنواز باغیوں کی جانب سے کیے گئے حملے کے معاملے میں ایک خود ساختہ نکسلی کمانڈر سمیت چھ نکسلیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

گزشتہ ماہ دانتے واڑہ میں سینٹرل رزرو پولیس فورس پر حملہ ہوا تھا جس میں 76 سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

گرفتار ہونے والے افراد پر اس حملے میں شامل ہونے کا الزام ہے۔

چھتیس گڈھ میں ایک سینئر پولیس اہلکار امریش مشرا نے بتایا" ہم لوگوں نے دو الگ الگ معاملوں میں ان چھ افراد کو مورپلی علاقے سے گرفتار کیا ہے'۔.

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والے نکسلی کمانڈر نے انہیں بتایا ہے کہ نکسلی وائرلیس کی مدد سے سی آر پی ایف کے نیم فوجی دستوں کی حرکتوں پر نظر رکھے ہوئے تھے۔

گزشتہ ماہ دانتے واڑہ میں ماؤنواز باغیوں کے ساتھ جھڑپوں میں نیم فوجی دستے 76 اہلکارہلاک ہوئے تھے۔

یہ واقعہ ضلع دانتےواڑہ کے گھنے جنگلوں میں پیش آیا تھا۔

داخلہ سیکرٹری جے کے پلائی نے بتایا تھا کہ حملے میں پریشر بم کا استعمال کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق حملے میں سات سی آر پی ایف کے جوان شدید طور پر زخمی بھی ہوئے تھے۔

دانتے واڑہ نکسلیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سے ایک ہے اور یہاں آئے دن نیم فوجی دستوں اور ماؤ نوازوں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

ہندوستان میں حکومت نے ماؤنواز باغیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن '’گرین ہنٹ ‘ شروع کیا ہے۔ جب سے اس کی شروعات ہوئی ہے تب سے ماؤ نوازوں کے حملوں میں تیزی آئی ہے۔

.

اسی بارے میں