جرمن بیکری دھماکہ: ’مشتبہ ملزم گرفتار‘

بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے پونے کی جرمن بیکری میں ہونے والے بم دھماکے کے اصل مشتبہ ملزم کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔

ممبئی پولیس
Image caption پولیس کا کہنا ہے کہ بھٹکل پونے دھماکے کا ماسٹر مائنڈ ہے

وزارت داخلہ کے جاری کردہ ایک بیان کےمطابق عبدلصمد بھٹکل کو وفاقی ایجنسیوں نے پیر کے روز حراست میں لیا تھا۔ بھٹکل کو کرناٹک میں منگلور ہوائی اڈے سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جو وہ دوبئی سے لوٹے تھے۔

ممبئی کی ایک عدالت نے بھٹکل کو یکم جون تک پولیس حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔ لیکن ان کے خلاف عدالت میں پیش کردہ دستاویزات کے مطابق انسداد دہشتگردی دستے یعنی اے ٹی ایس نے بھٹکل کو جرمن بیکری دھماکہ کیس میں نہیں بلکہ اسلحہ قانون کے تحت گرفتار کیا ہے۔

جنوبی ممبئی میں کچھ عرصہ قبل پولیس نے اسلحہ کے ساتھ تین افراد کو گرفتار کیا تھا اور ان سے تفتیش کے بعد عبدالصمد بھٹکل کا نام سامنے آیا تھا۔

اسی برس تیرہ فروری کو پونے کی جرمن بیکری میں زوردار بم دھماکہ ہوا تھا جس میں سترہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ اس میں انڈین مجاہدین نامی تنظیم کا ہاتھ تھا۔

عبدلصدم کے ببڑے بھائی یسین بھٹکل کی پولیس کو چار سال سے تلاش ہے۔ پولیس کا خیال ہے کہ وہ انڈین مجاہدین کے ایک اہم کارکن ہیں۔

اے ٹی ایس ذرائع کا دعوی ہے کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ بھٹکل دبئی میں ویزا ختم ہونے کے بعد اپنے وطن منگلور پہنچنے والے ہیں۔

بھٹکل کے والد محمد ضرار کا دبئی میں بزنس ہے۔ وہ کرناٹک کے شہر بھٹکل کے رہنے والے ہیں۔ پولیس کا دعوی ہے کہ بھٹکل جرمن بیکری دھماکہ کے وقت پونے میں تھے اور اس کے بعد دبئی کے لیے روانہ ہوئے۔

اے ٹی ایس اور پونے پولیس ذرائع کے مطابق جرمن بیکری بم دھماکہ کے بعد پولیس نے جو سی سی ٹی وی فٹیج حاصل کیا تھا اس میں ایک ایسے نوجوان کو دکھایا گیا تھا جس کے کندھے پر دو بیگ تھے اور واپسی میں اس کے کندھے پر ایک ہی بیگ تھا۔ پولیس کا دعوی ہے کہ اس شخص کی شکل بھٹکل سے بہت ملتی ہے۔

اسی بارے میں