’قریباً پچاس فیصد کشمیری آزادی کےخواہاں‘

ایک برطانوی تھنک ٹینک کے سروے کے مطابق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے اوسطاً چوالیس جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے اوسطاً تینتالیس فیصد لوگ آزادی چاہتے ہیں۔

چیتھم ہاؤس کے ڈاکٹر رابرٹ بریڈ ناک نے اس سروے کے دوران لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب کے علاقوں میں تین ہزار سات سو کشمیریوں کے انٹرویو کیے اور اس دوران ان سے مختلف معاملات پر رائے طلب کی۔

ان معاملات میں سے ایک کلیدی معاملہ خطے کے مستقبل کے بارے میں تھا اور ان افراد میں سے قریباً نصف نے آزادی کی خواہش ظاہر کی۔

ڈاکٹر بریڈ ناک کا کہنا ہے کہ اگر اس خطے کے مستقبل کے حوالے سے دیکھا جائے تو سروے کے نتائج حیران کن ہیں۔

انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ آزادی کا حصول سب سے مقبول جواب تھا تاہم اس کے باوجود یہ ایل او سی کے دونوں جانب سے مکمل اکثریتی جواب نہیں تھا۔ انہوں نےے کہا کہ ’بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں لوگوں کے خیالات ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ سروے سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ کشمیری اس مسئلے کا حل چاہتے ہیں تاہم مسئلۂ کشمیر کا حل اتنا آسان بھی نہیں ہے۔

ڈاکٹر بریڈ ناک کے مطابق وادی میں جو کہ مسلم اکثریتی علاقہ ہے آزادی کے حق میں رائےچوہتر سے پچانوے فیصد تک رہی جبکہ ہندو اکثریتی جموں ڈویژن میں ایک فیصد سے بھی کم افراد آزادی کے حق میں نظر آئے۔

سروے میں پوچھے گئے دیگر سوالات کے نتائج کے مطابق ایل او سی کے دونوں جانب سے اسّی فیصد کشمیری اس مسئلے کو اپنا ذاتی مسئلہ سمجھتے ہیں۔ سروے میں بھارتی زیرِ انتظام علاقے کے تینتالیس جبکہ پاکستانی زیرِ انتظام علاقے کے انیس فیصد افراد نے علاقے میں حقوقِ انسانی کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی۔

سروے سے یہ بھی پتہ چلا کہ بیروزگاری دونوں جانب کے کشمیر میں ایک اہم مسئلہ ہے اور جہاں پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر میں چھیاسٹھ فیصد افراد نے اس پر پریشانی کا اظہار کیا وہیں دوسری جانب یہ شرح ستاسی فیصد رہی۔

امن مذاکرات کے حوالے سے جہاں پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر کے صرف ستائیس فیصد لوگ پرامید دکھائی دیے وہیں بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے ستاون فیصد عوام کے خیال میں یہی کامیابی کا راستہ ہے۔

ڈاکٹر بریڈ ناک کا کہنا ہے کہ سنہ انیس سو اڑتالیس، اننچاس کی اقوامِ متحدہ کی قرارداد کے تحت کشمیر کے مستقبل پر ریفرنڈم کروا بھی لیا جائے تب بھی ’اس سے کسی حل کا نکلنا ناممکنات میں سے ہی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ اس سروے سے واضح ہوا ہے کہ کشمیر کے مستقبل کے بارے میں کوئی بھی ایسی تجویز نہیں ہے جس پر عوام سے رائے طلب کی جائے تو اسے اکثریت کی حمایت حاصل ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ یہ سروے مسئلے کا حل تو نہیں بتاتا لیکن یہ ایک سنگِ میل ضرور ہے اور جس کی مدد سے بھارت، پاکستان اور اکثریتی کشمیریوں کے نمائندے اس مسئلے کے حل کی جانب بڑھ سکتے ہیں‘۔

اسی بارے میں