جرمن بیکری دھماکہ: گرفتاری پر سوال

مہاراشٹر انسداد دہشت گردی عملہ ( اے ٹی ایس ) نے منگلور سے جس عبدالصمد بھٹکل کو گرفتار کیا ہے ، کیا وہ واقعی پونے جرمن بیکری بم دھماکہ کا مشتبہ ملزم ہے؟ یہ سوال چند مسلم تنظیموں پر مشتمل ایک وفد نے اے ٹی ایس سربراہ راکیش ماریا سے کیا۔

Image caption راکیش ماریہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے عبدالصمد کو اسلحہ فراہمی کے معاملے میں گرفتار کیا ہے

عبدالصمد کی گرفتاری اور ان کے بارے میں ذرائع ابلاغ میں آنے والی متضاد خبروں نے لوگوں کو شش و پنج میں مبتلا کر دیا۔ مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرام نے عبدالصمد کی گرفتاری پر یہ بیان جاری کیا تھا کہ وہ پونے بم دھماکہ کا مشتبہ ملزم ہے اور انہوں نے بم دھماکہ کے سو دن مکمل ہونے سے قبل اس کیس کو حل کرنے کے لیے مہاراشٹر اے ٹی ایس کو شاباش دی تھی۔

لیکن دوسری جانب اے ٹی ایس نے عدالت میں عبدالصمد کے پولیس حراست میں لیے جانے کی اپیل کے لیے داخل کردہ دستاویزات میں انہیں اسلحہ فراہمی جیسے کیس کا مشتبہ ملزم قرار دیا تھا۔ عدالت نے صمد کو اسی کیس میں یکم جون تک پولیس حراست میں رکھنے کا حکم صادر کیا تھا۔

وفد میں شامل علماء کونسل کے جنرل سیکریٹری مولانا محمود دریاآبادی نے اس ملاقات کی تفصیل دیتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ وفد نے ماریا سے یہ سوال کیا کہ آخر پولیس کے پاس کیا ثبوت ہیں کہ عبدالصمد پونے دھماکہ کا ملزم ہے۔ مولانا کے مطابق ماریا نے جواب دیا کہ پولیس نے انہیں اسی لیے پونے دھماکہ نہیں بلکہ اسلحہ فراہمی کیس میں ملزم قرار دیا ہے۔ مولانا کا کہنا تھا کہ پھر وفد نے یہ سوال کیا کہ آخر مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم کی جانب سے جاری کردہ بیان میں یہ کیوں کہا گیا کہ صمد پونے دھماکہ کا مشتبہ ملزم ہے اور چدمبرام نے آپ کو کس بات کی مبارکباد دی؟

وفد میں شامل اردو صحافیوں کی تنظیم کے صدر محمد اظہار نے کہا کہ اس سوال کا اے ٹی ایس چیف ماریا نے گول مول جواب دیا وہ اس بات کی وضاحت نہیں کر پائے کہ آخر چدمبرم نے انہیں اور ان کی ٹیم کو کس بات کی مبارکباد دی۔

Image caption عبدالصمد کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ عبدالصمد معصوم ہے

وفد نے اے ٹی ایس چیف سے یہ بھی کہا کہ پولیس نے ماضی میں ایسے کئی مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا۔ وہ برسوں جیل میں رہے لیکن بعد میں جنہیں عدالت نے باعزت بری کر دیا۔ باعزت بری ہونے کے بعد ایک نوجوان کی زندگی اور اس کے ساتھ اس کے خاندان کا وقار دونوں مجروح ہو جاتا ہے۔ مولانا دریا آبادی کے مطابق اس اعتراض پر ماریا نے کہا کہ وہ پوری کوشش کریں گے کہ کسی بے گناہ مسلم نوجوان کی گرفتاری عمل میں نہ آئے۔

صمد کی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے ان کی والدہ ریحانہ بی ، چاچا محمد علی اور چند رشتہ داروں نے ایڈوکیٹ مبین سولکر سے گزشتہ شب ملاقات کی۔ صمد کی والدہ ریحانہ بی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کا بیٹا جرمن بیکری دھماکہ کے وقت بھٹکل میں اپنے گھر پر تھا۔ خاندان میں شادی تھی۔ اور ان کے پاس اسے ثابت کرنے کے لیے سی ڈی بھی ہے۔

صمد کی والدہ کا یہ بھی دعوی ہے کہ ان کے بیٹے کا اسلحہ فراہمی کیس سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔

صمد کے پونے دھماکہ سے منسلک ہونے کی خبریں اس وقت منظر عام پر آئیں جب پونے پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کیا جس میں ایک نوجوان کو دکھایا گیا جس کے سر پر کیپ ہے اور اس کے کندھے پر بیگ۔ پولیس کا دعوی ہے کہ اس کی شکل صمد سے بالکل ملتی ہے۔

مولانا عبدالسلام قاسمی نے پولیس کی تفتیش پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں پولیس نے ایسے ہی کئی معاملات میں لوگوں کو گرفتار کیا وہ برسوں جیل میں رہے لیکن بعد میں عدالت میں ان کے خلاف پولیس ثبوت ہی پیش نہیں کر پائی اور انہیں رہائی مل گئی۔ مولانا نے حج ہاؤس کے پیش امام غلام یحیی کی مثال دی۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا کو اے ٹی ایس نے مبینہ دہشت گردوں کی مدد کرنے کے الزام میں چار برسوں تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے رکھا لیکن عدالت نے انہیں بری کر دیا۔

قاسمی نے چھبیس نومبر دو ہزار آٹھ کو ممبئی پر ہوئے حملے کے ہندستانی ملزمین فہیم انصاری اور صباح الدین کی گرفتاری کی بھی مثال دی جنہیں بھی اے ٹی ایس نے ہی گرفتار کیا تھا لیکن عدالت میں پولیس کیس ثابت کرنے میں ناکام رہی تھی اور جج تہیلیانی نے پولیس کی سرزنش کی تھی اور ان کے پیش کردہ ثبوتوں کو ناکارہ قرار دیا تھا۔

جمیعت علماء کے جنرل سکریٹری مولانا مستقیم اعظمی کو تشویش ہے کہ ماضی سے پولیس نے ابھی بھی کوئی سبق نہیں لیا ہے اور وہ بغیر ٹھوس ثبوت کے نوجوانوں کو گرفتار کر کے انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیتی ہے۔ اعظمی نے خدشہ ظاہر کیا کہ کہیں صمد بھی اسی طرح کے حالات کا شکار نہ بن جائے۔ اعظمی کے مطابق حالانکہ اے ٹی ایس چیف ماریا نے وفد کو یقین دلایا ہے کہ کسی بھی بے گناہ کے ساتھ زیادتی نہیں ہو گی لیکن انہیں اس پر یقین نہیں ہے۔

اسی بارے میں