بس حادثہ: کم از کم تیس جل کر ہلاک

بھارت کے جنوبی شہر بنگلور جانے والی ایک بس میں حادثے کے بعد آگ لگ جانے سے کم از کم تیس مسافر جل کرہلاک ہوگئے، مرنے والوں میں دس بچے بھی شامل ہیں۔

بھارت میں بس کے حادثے ایک معمول ہیں (فائل فوٹو)
Image caption بھارت میں بسوں کے حادثات ایک معمول ہیں

پولیس کے مطابق سٹرک پر بنی ہوئی ایک رکاوٹ سے ٹکرانے کے بعد بس میں آگ لگ گئی۔

مقامی پولیس سپریٹینڈنٹ لابھو رام نے جائے حادثہ دیکھنے کے بعد ٹیلی فون پر خبر رساں ادارے ایے ایف پی کو بتایا کہ یہ سرکاری بس تھی جو اندھیرے کے باعث ایک چھوٹے سے پل پر بنی ہوئی رکاوٹ سے ٹکرانے کے بعد نیچے گرکر الٹ گئی اوراس کے ڈیزل ٹینک میں آگ لگ گئی۔

بس میں چونسٹھ مسافر سوار تھے جو کرناٹک کے شہر سر پور سے کو ئی چھ سو کلو میٹر کے فاصلے پر آئی ٹی ٹیکنالوجی کے گڑھ بنگلور جارہی تھی۔ حادثہ کرناٹک میں ہی چترا ڈونگا کے مقام پر پیش آیا۔

بچ جانے والے تین مسافروں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

ریاست کے وزیر ٹرانسپورٹ آر اشوک نے جائے حادثہ کا معائنہ کرنے کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق حادثہ ڈرائیورکی غلطی سے ہوا۔

رپورٹ کے مطابق سٹرک پر بنی رکاوٹ سے ٹکراتے وقت بس کی رفتار بہت تیز تھی۔

پولیس نے حادثے میں بچ جانے والےڈرائیور کے خلاف کیس درج کرلیا ہے۔

واضح رہے کہ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق بھارت میں سٹر کوں پر ہونے والے حادثوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ زیادہ تر حادثات کی وجہ تیز رفتاری، ٹوٹی پھوٹی سٹرکیں، گنجائش سے زیادہ مسافروں کاگاڑیوں میں بیٹھنا اور گاڑیوں کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونا ہے۔

پولیس کے اپنے اعداد وشمار کے مطابق ملک بھر میں ایسے حادثوں پر سالانہ ایک لاکھ دس ہزار سے زیادہ افراد مر جاتے ہیں۔