کارگل کی ہار جیت

کارگل کی لڑائی کس نے جیتی تھی؟

کارگل کی لڑائی کے دوران بھارتی افواج کی قیادت کرنے والے ایک جنرل نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں بھارت یہ جنگ ہار گیا تھا۔

لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) کشن پال نے این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ ہم نے وہ علاقہ ضرور دوبارہ حاصل کیا جس پر دراندازوں نے قبضہ کر لیا تھا، ہمیں حکمت عملی کے لحاظ سے کچھ کامیابیاں ملیں، لیکن ہم نے پانچ سو ستاسی قیمتی جانیں بھی کھوئیں، میں اسے جنگ میں شکست مانتا ہوں کیونکہ جو کچھ بھی ہم نے حاصل کیا تھا، ہم نے سیاسی اعتبار سے نہ سفارتی اعتبار سے اور بدقستمی سے نہ ہی فوجی اعتبار سے، ان کامیابیوں کے بعد اپنی پوزیشن کو مضبوط نہیں کیا۔’

کارگل کی لڑائی انیس سو ننیانوے میں لڑی گئی تھی جس کے دوران جنرل کشن پال سری نگر میں پندرہویں کور کے کمانڈر تھے۔

’اپنے دل میں میں نے کبھی یہ نہیں مانا کہ ہم واقعی یہ جنگ جیتے تھے۔‘

اس وقت جنرل وی پی ملک فوج کے سربراہ تھے۔ جنرل کشن پال کے دعوے کاجواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’پہلی گولی پاکستان نے چلائی تھی اور آخری ہم نے۔ یہ جنگ ہمارے شرائط پر ختم ہوئی تھی۔‘

جنرل کشن پال گزشتہ ہفتے اس وقت خبروں میں آئے تھے جب فوج کے ایک ٹرائبیونل نے انہیں اپنے ایک ماتحت افسر کا جنگ کے دوران ریکارڈ خراب روشنی میں پیش کرنے کا قصوروار پایا تھا۔

ٹرائبیونل نے اپنے فیصلےمیں کہا تھا کہ کارگل کی لڑائی کی جو تاریخ لکھی گئی ہے وہ پوری طرح درست نہیں ہے۔ یہ فیصلہ برگیڈیر دیوندر سنگھ کی شکایت پر سنایا گیا تھا جن کا الزام تھا کہ جنرل پال نے دانستہ طور پر ان کا ریکارڈ منفی انداز میں پیش کیا تھا۔ لیکن جنرل کشن پال نے اس الزام سے انکار کرتے ہیں۔ اس نوعیت کے اور بھی کئی معاملات پر ٹرائبیونل غور کر رہا ہے۔

اپنے تازہ ترین دعوے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ٹرائبیونل کا فیصلہ ان وجوہات میں سے صرف ایک ہے جن کی وجہ سے انہوں نے گیارہ سال کے بعد اپنی خاموشی توڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جنرل پال نے یہ بھی کہا کہ جب کارگل میں دراندازی کا پتہ چلا تو فوج پر انہیں پسپا کرنے کے لیے زبردست سیاسی دباؤ تھا۔

’یہ واقعہ سب سے کے لیے شرمندگی کا باعث تھا۔ ہم سے یہ پوچھا جارہا تھے کہ کیا ہم لوگوں کو جلدی سے نکال سکتے ہیں۔ جنگ کے پہلے کچھ دنوں میں چیف (فوج کے سربراہ) زیادہ اہم کام سے بیرون ملک گئے ہوئے تھے۔ نائب چیف سری نگر آئے تھے مجھ سے بات کرنے۔ انہوں نے کہا کہ بہت دباؤ ہے، ہمیں اس معاملے کو جلدی نمٹانا ہے۔۔۔آپکو کتنا وقت لگے گا؟’

میں نے ان سے کہا کہ’ سر آپکو معلوم ہے یہ پہاڑی علاقہ ہے، یہاں ایک ڈیوژن کو تعینات اور جنگ کے لیے پوری طرح تیار کرنے کے لیے ہی ایک مہینا چاہیے جس پر انہوں نے کہا کہ کیا اس سے جلدی نہیں ہوسکتا؟’

جنرل پال کے بیانات پر فوج کی جانب سے ابھی کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ جہاں تک ٹرائبیونل کے فیصلے کا سوال ہے، وزیر دفاع اے کے اینٹونی کے مطابق اس کا باریکی سے جائزہ لیا جارہا ہے۔

کارگل کی لڑائی سے پہلے دراندازی کا پتہ لگانے میں انٹیلی جنس کی ناکامی اور ان علاقوں میں دراندازوں کے مورچہ زن ہونے کی خبروں کو بعض فوجی افسران کی جانب سے نظر انداز کیے جانے کے الزام ہمیشہ سے لگائے جاتے رہے ہیں لیکن فوجی ٹرائبیونل کے فیصلے کے بعد ان کا تذکروہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔

اسی بارے میں