مغربی بنگال: ممتا بینرجی کی جیت

ممتا بینرجی
Image caption گانگریس کے ایک حلقے کے بائیں بازو کی جماعتوں سے مراسم کو ممتا شبہہ کی نگاہ سے دیکھتی ہیں

مغربی بنگال کے بلدیاتی انتخابات میں ممتا بینرجی کی کامیابی سے دلی میں کانگریس کی قیادت والی حکومت کے لیے نئے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ مغربی بنگال میں آئندہ سال اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں جن کے لیے بلدیاتی انتخابات کو ایک ڈریس ریہرسل کے طور دیکھا جارہا تھا۔ اس کامیابی سے ممتا بینرجی نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کر دیا ہے اور اب کانگریس کے لیے انہیں کنٹرول کرنا اور مشکل ہو جائے گا۔

ساتھ ہی کانگریس کو یہ پیغام بھی مل گیا ہوگا کہ مغربی بنگال کے عوام تبدیلی تو چاہتے ہیں لیکن کانگریس کی واسپی کے حق میں نہیں ہیں۔ اس سے کانگریس کی پوزیشن اور کمزور ہوگی۔

ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس یو پی اے سرکار میں شامل ہے لیکن کانگریس سے ان کے تعلقات کافی عرصے سے کشیدہ رہے ہیں۔

ریلوے کی وزیر ہونے کے باوجود وہ اکثر کابینہ کے اجلاسوں میں شرکت نہیں کرتیں اور بتایا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ وہ میٹنگ کے دوران ہی ناراض ہوکر جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی تھیں کیونکہ ان کی مرضی کے خلاف ایک قانون کی منظوری دی جارہی تھی۔

یو پی ایے سرکار کو پارلیمان میں معمولی اکثریت حاصل ہے اور اس کے لیے ممتا کو ناراض کرنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ لہذا مغربی بنگال کے حوالے سے وفاقی حکومت کوئی ایسا فیصلہ نہیں کر پاتی جو ممتا کو منظور نہ ہو۔

ممتا بینرجی خود پرانی کانگریسی ہیں جنہوں نے انیس سو اٹھاسی میں اپنی علیحدہ جماعت قائم کی تھی۔ مرکز میں تو وہ کانگریس کے ساتھ ہیں لیکن ریاست میں اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں دونوں پارٹیوں کے درمیان سیٹوں کے بٹوارے پر کوئی مفاہمت نہیں ہو سکی تھی۔ اور کانگریس جس طرح سے ان انتخابات میں مقابلے سے باہر نظر آئی ہے، اسمبلی انتخابات کے لیے بھی اسے اپنے منصوبوں کو اب زمینی حقائق کی روشنی میں دیکھنا ہوگا۔

مبصرین کا خیال ہے کہ اب سے لیکر آئندہ برس کے اسمبلی انتخابات تک ممتا بینرجی وفاقی حکومت میں اپنی پوزیش کو استعمال کرکے ریاست میں انتخابی مہم چلائیں گی۔ اور کانگریس کو نا چاہتے ہوئے بھی ان کے مطالبات کے سامنے جھکنا ہوگا۔ گانگریس کے ایک حلقے کے بائیں بازو کی جماعتوں سے مراسم کو ممتا شبہہ کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ بلدیاتی انتخابات سے قبل بھی یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ کلکتہ کی میونسپل کارپوریشن میں اگر ترنمول کانگریس اکثریت حاصل نہیں کرپاتی تو لیفٹ پارٹیز انہیں اقتدار سے باہر رکھنے کے لیے کانگریس کی حمایت کرنے کو تیار تھیں کیونکہ بنگال میں انہیں خطرہ ممتا سے ہے کانگریس سے نہیں۔

بہرحال، اصل جنگ اب شروع ہوگی اور وزیر ریل نے بلدیاتی انتخابات میں جو رفتار دکھائی ہے وہ قائم رہی تو دنیا کی سب پرانی جمہوری طور پرمنتخب کمیونسٹ حکومت زیادہ دن اقتدار میں باقی نہیں رہے گی۔

اسی بارے میں