ہندوستان: فیتہ شاہی عروج پر

سروے میں کہا گیا ہے کہ بیرونی کمپنیوں کو افسر شاہی کی طرف سے روکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں فیتہ شاہی (ریڈ ٹیپ ازم) کی صورتحال اتنی خراب ہے کہ اس کا شمار دنیا کے بدترین نظاموں میں کیا جاتا ہے۔

یہ بات ہانگ کانگ کے ایک ادارے پولیٹکل اینڈ اکانومک رسکت کنسلٹینسی نے بارہ ایشائی ممالک میں سو سے زیادہ بزنس ایگزیکٹیوز کا سروے کرنے کے بعد اپنی رپورٹ میں کہی ہے۔

ہندوستان میں معاشی ترقی کی رفتار پر دنیا رشک کرتی ہے۔ لیکن بہت سی غیرملکی کمپنیوں کے لیے ہندوستان اپنی افسرشاہی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی جانب سے کھڑی کی جانے والی رکاوٹوں کے باجود ترقی کر رہا ہے۔ یعنی فیتہ شاہی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

اس رپورٹ میں بارہ ایشیائی ممالک کا احاطہ کیا گیا ہے اور انہیں ایک سے دس کے پیمانے پر پوائنٹس دیے گئے ہیں۔ بدترین سکور دس ہے اور ہندوستان کو نو اعشایہ چار ایک پوائنٹس ملے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق افسرشاہی میں اصلاحات کے وعدے تو اکثر کیے جاتے ہیں لیکن پورے نہیں ہو پاتے کیونکہ سول سروس خود بہت طاقتور ہے۔ ہندوستان میں کاروبار شروع کرنا انتہائی مشکل کام ہے اور کانٹریکٹس پر عمل درآمد کو یقینی بنانا تقریباً ناممکن ہے۔ رپورٹ کے مطابق افسرشاہی اور بدعنوانی میں چولی دامن کا ساتھ ہے اور یہ تاثر بھی کافی عام ہے کہ سرکاری افسر ان لوگوں کے مسائل پر کان نہیں دھرتے جن کی مدد کرنا ان کا کام ہے۔

لیکن ہندوستان میں اس رپورٹ پر کسی کو حیرت نہیں ہوگی۔ شاید سرکاری افسروں کو بھی نہیں۔ حال ہی میں حکومت نے ہی ایک سروے کروایا تھا جس میں سرکاری افسران نے بےجا سیاسی مداخلت کی شکایت کرتے ہوئے کہا تھا موجودہ نظام کے خلاف اگر کوئی افسر آواز اٹھاتا ہے تو اسے ہمیشہ سزا کے طور پر کسی دور دراز علاقے میں تبادلے کا خطرہ رہتا ہے۔

خود ہندوستانیوں اور غیر ملکی بزنس ایگزیکٹیوز میں عدم اطمیان کے عالم کی روشنی میں پولیٹکل اور ایکانومک رسک کنسلٹینسی نے یہ دلچسپ سوال اٹھایا ہے کہ اگر لال فیتہ شاہی کم ہوجائے، تو ہندوستان کی ترقی کی رفتار کتنی تیز ہوسکتی ہے؟

ادارے کا خیال ہے کہ فیتہ شاہی کا ایک نقصان یہ ہوگا کہ وسط مدتی تناظر میں ہندوستان ہمسایہ ملک اور بڑے حریف چین کی شرح نمو کا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔

اسی بارے میں