شہریوں کی ہلاکت، میجر معطل

Image caption مبینہ جعلی مقابلہ گزشتہ مئی کو لائن آف کنٹرول کے قریب واقع گاؤں ماچھِل میں ہوا تھا

بھارتی فوج نے اس میجر کو معطل کر دیا ہے جس پر ایک جعلی مقابلے میں تین شہریوں کو ہلاک کرنے کا الزام تھا۔

بھارتی فوج کی ناردرن کمانڈ کے جی او سی اِن چیف لیفٹیننٹ جنرل بی ایس جسوال نے اتوار کے روز سری نگر میں اخبار نویسوں کو بتایا کہ مبینہ جعلی مقابلے میں ملوث بٹالین کے کمانڈر کو اپنے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

’بٹالین کے کمانڈر کو اپنے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے جبکہ ان کے نائب کو معطل کر دیا گیا ہے۔ اس سے آپ کو پتا چل جانا چاہیے کہ ہم واقعے کے ذمے داروں کے خلاف کس سنجیدگی سے کارروائی کر رہے ہیں۔‘

مبینہ جعلی مقابلہ گزشتہ مئی کو لائن آف کنٹرول کے قریب واقع گاؤں ماچھِل میں ہوا تھا۔ پولیس کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ ہلاک ہونے والے عام شہریوں کو قُلی کے طور پر بھرتی کرنے کے بہانے اغواء کیا گیا اور بعد میں انہیں ایک مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق جعلی مقابلہ ایک میجر کی ایما پر کیا گیا جو تین شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کی بنیاد پر آؤٹ آف ٹرن پروموشن چاہتے تھے۔

فوج نے پولیس کی تحقیقات میں تعاون کرنے کے عزم کا اعادہ کرنے کے ساتھ ساتھ خود اپنی تحقیقات کا بھی حکم دے دیا ہے۔ ریاستی حکومت نے بھی واقعہ کی اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ کشمیر کے ڈویژنل کمشنر محترمہ نسیم لنکر سے کہا گیا ہے کہ وہ دو ہفتوں کے اندر اپنی رپورٹ جمع کرائیں۔

جعلی مقابلے کا معاملہ ایک ایسے مرحلے پر سامنے آیا ہے جب وزیر اعظم من موہن سنگھ کشمیر کا دورہ کرنے والے ہیں۔ مسٹر من موہن سنگھ اپنا دورہ پیر کے روز شروع کریں گے۔

اسی بارے میں