بھوپال سانحہ: آٹھ مجرموں کو دو دو سال قید

پچیس سال کی قانونی کارروائی کے بعد عدالت نے مقدمے کی سماعت تیرہ مئی کو مکمل کی تھی۔ اس دوران ایک سو اٹھہتر گواہ اور تین ہزار دستاویزات پیش کیے گئے۔ بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں ایک ذیلی عدالت نے چھبیس برس پہلے زہریلی گیس کے اخراج سے ہزاروں افراد کی ہلاکت کے آٹھ ملزمان کو دو دو برس کی جیل اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

لیکن سزا سنائے جانے کے کچھ منٹ بعد ہی پچیس ہزار روپے کا معاوضہ ادا کرنے کے بعد سات مجرمان کی ضمانت ہوگئی۔

بھوپال میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار اوی ناش دت نے بتایا ہے کہ اس معاملے میں عدالت نے آٹھ افراد کو قصوروار ٹھہرایا تھا۔ اس میں یونین کاربایڈ میں ہندوستانی شاخ کے چیئرمین کیشو مہندرا، اسسٹنٹ مینجر بی پی گھوکھلے، کشور کامدا، ایس پی چودھری، آر بی رائے چودھری، کیشو شیٹی، جے مکند اور ایس آئی قریشی شامل ہیں۔

متاثرین کی وکیل سادھنا پاٹھک نے بتایا ہے کہ کمپنی کو پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔

جن افراد کو سزا ہوئی ہے ان میں سے آر بی چودھری کی موت ہوچکی ہے۔

متاثرین کے وکیل اور حمایتی جے پرکاش نے ان سزاؤں کو متاثرین کے ساتھ مذاق قرار دیا ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا صنععتی حادثہ مانا جاتا ہے۔

اس مقدمے میں ملزمان پر الزام تھا کہ ان کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے بہت سے لوگوں کی موت ہوئی تھی۔

پچیس سال کی قانونی کارروائی کے بعد عدالت نے مقدمے کی سماعت تیرہ مئی کو مکمل کی تھی۔ اس دوران ایک سو اٹھہتر گواہ اور تین ہزار دستاویزات پیش کیے گئے۔

پولیس نے تین دسمبر انیس سو چوراسی کو بھوپال گیس سانحے کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کی تھی اور بعد میں تفتیش سی بی آئی کو سونپ دی گئی تھی۔

انیس سو چوراسی میں دو اور تین دسمبر کی نصف رات کے قریب کھاد بنانے والی کثیر القومی کمپنی یونین کاربائڈ کی فیکٹری سے زہریلی گیس، میتھائل آئسو سائنیٹ، رسنا شروع ہوئی تھی جس سے ہزاروں لوگ مارے گئے اور لاکھوں کو جسمانی اور ذہنی معذوری کا شکار ہوگئے۔

ان آٹھ لوگوں پر الزام تھا کہ ان کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا تھا جس کے نتیجےمیں ہزاروں لوگوں کی موت ہوئی۔ تعزیرات ہند کی جس دفعہ کے تحت یہ مقدمہ چلایا گیا اس میں زیادہ سےزیادہ دو سال کی سزا کی گنجائش ہے۔

ملزمان میں سے ایک کا مقدمے کی سماعت کے دوران ہی انتقال ہو گیا تھا۔ باقی سات افراد پر ایک ایک لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے اور سبھی کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔

عدالت نے یونین کاربائڈ انڈیا لیمیٹڈ کو بھی قصوروار ٹھہراتے ہوئے کمپنی پر پانچ لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا۔ یہ کمپنی اب بند ہوچکی ہے۔

فیصلے کے بعد بڑی تعداد میں متاثرین اور شہری حقوق کی تنظیموں نے عدالت کے باہرمظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ جو سزائیں دی گئی ہیں وہ ملزمان کے جرم سےمناسبت نہیں رکھتیں۔

Image caption زہریلی گیس کی زد میں آنے والی پیچیدگیوں نے تقریباً پچیس ہزار لوگوں کی جان لی اور بڑی تعداد میں لوگ آج بھی مختلف تکلیف دہ بیماریوں کا شکار ہیں

اب سے تقریبا چھبیس برس پہلے دو اور تین دسمبر انیس سو چوراسی کی درمیانی رات تھی کہ اچانک کیڑے مارنے والی دوائی کی اس فیکٹری سے زہریلی گیس رسنا شروع ہوگئی۔

دیکھتے ہی دیکھتے یہ انتہائی زیریلی (میتھائل اسوسائنیٹ) گیس چاروں طرف پھیل گئی۔ بڑی تعداد میں لوگ نیند سے اٹھے ہی نہیں، جو اٹھ سکے ان کے پاس بھاگ کر جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔

سب سے زیادہ متاثر فیکٹری کے گرد و نواح میں کچی بسیتوں میں رہنے والے لوگ ہوئے لیکن بھوپال شہر بھی محفوظ نہیں رہا۔ بڑی تعداد میں لوگ، جس حال میں بھی تھے، جان بچانے کے لیے شہر چھوڑ کر بھاگ رہے تھے۔

حکومت نے پہلے تقریباً چار ہزار اموات کا اعتراف کیا، لیکن دیگر آزاد ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پہلے بہتر گھنٹوں میں ہی آّٹھ سے دس ہزار لوگ مارے گئے تھے جبکہ اس کے بعد زہریلی گیس کی زد میں آنے والی پیچیدگیوں نے تقریباً پچیس ہزار لوگوں کی جان لی اور بڑی تعداد میں لوگ آج بھی مختلف تکلیف دہ بیماریوں کا شکار ہیں۔

اسی بارے میں