پاک بھارت مستقبل جُڑا ہوا ہے: منموہن

ہندوستان کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ دونوں ملکوں اور جموں و کشمیر کی مشترکہ ترقی کے لیے مناسب ماحول سازی میں اپنا کردار نبھائے۔

فائل فوٹو، منموہن سنگھ
Image caption وزیراعظم منموہن سنگھ کے دورے کے موقع پر وادی میں ہڑتال کی گئی تھی

پیر کو بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے دو روزہ دورے کے موقع پر زرعی یونیورسٹی میں جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کا مستقبل جُڑا ہوا ہے۔

انھوں نے اردو زبان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں کنٹرول لائن کے پار اپنے پڑوسیوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ دونوں طرف رہنے والے لوگوں کی خاطر امن، بھائی چارہ اور ترقی کا ماحول بنانے میں وہ ہماری مدد کریں۔‘

انہوں نے پاکستان سے کہا کہ وہ دونوں ملکوں اور جموں کشمیر کی مشترکہ ترقی کے لیے مناسب ماحول سازی میں اپنا کردار نبھائے۔

منموہن سنگھ نے بھوٹان مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی وزیراعظم نے انہیں یقین دلایا ہے کہ پاکستان کی سرزمین کو بھارت کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اس سے پہلے پیر کو وزیراعظم منموہن سنگھ ہڑتال، مظاہروں اور سخت سکیورٹی انتظامات میں سرینگر پہنچے تھے۔ منموہن سنگھ اقتدار کے چھ سال میں ہر سال کشمیر کا دورہ کرنے والے پہلے بھارتی وزیراعظم ہیں۔

خطاب میں کنٹرول لائن پر دراندازی کا مقابلہ کرنے والے فوجی جوانوں کی سراہتے ہوئے منموہن سنگھ نے کہا کہ ’ دراندازی کا مقابلہ کرنے کے دوران کچھ بے قصور شہریوں کی جانیں بھی ضائع ہوجاتی ہیں۔ یہ افسوس کی بات ہے۔ ہم نے تمام سکیورٹی ایجنسیوں کو ہدایت دی ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔‘

انہوں نے جلسہ تقسیم اسناد میں شامل اعلیٰ تعلیم یافتہ طلبا وطالبات سے مخاطب ہوکر جموں کشمیر کے تمام نوجوانوں سے کہا کہ ’میں آپ سب کو بھارت میں موجود ترقی اور خوشحالی کے اُن عظیم موقعوں کی دعوت دیتا ہوں جن کے بارے میں ہماری پیڑی سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔‘

انہوں نے اعلان کیا کہ نیشنل یوتھ کور منصوبے کے تحت آٹھ ہزار کشمیری نوجوانوں کو بھارت کے بڑے شہروں کی مفت سیر کرائی جائے گی جس کے دوران انہیں اُبھرتے بھارت میں شاندار مستقبل کے اُبھرتے مواقعوں کا احساس ہوجائے گا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ مزید آٹھ ہزار نوجوانوں کو ملک کے مختلف آئی ٹی اداروں میں بھرتی کیا جائے گا۔

کسی بھی علیٰحدگی پسند گروپ کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا کہ وہ ہر اس شخص یا تنظیم کے ساتھ بات کرنے پر آمادہ ہیں جو تشدد کے خلاف ہو۔ انہوں نے پچھلے تین سال کے دوران منعقد ہونے والی تین گول میز کانفرنسز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کانفرنسوں سے جو نتائج برآمد ہوئے ہیں ان پر مرحلہ وار عمل کیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم منموہن کے دورے کے موقع پر علیٰحدگی پسندوں کی کال پر ہڑتال اور مقامی انتظامیہ کی طرف سے نافذ سکیورٹی پابندیوں کی وجہ سے عام زندگی متاثر ہوئی۔ منموہن سنگھ کے وادی میں قیام کے دوران سکیورٹی انتظامات کے تحت موبائل فون اور وائرلیس انٹرنیٹ کی سہولات کو معطل کردیا گیا جس کے نتیجے میں عام لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔

اسی بارے میں