تمل باشندوں کے مسائل حل کریں‘

مہندا راجپکسے
Image caption مہندا راجپکسے تین دن بھارت میں رہیں گے

بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے سری لنکا کے صدر مہندا راجا پکشے سے ان سری لنکائی تمل باشندوں کو درپیش مصائب کے بارے میں بات چیت کی ہے جو ملک میں خانہ جنگی کے دوران اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے۔

من موہن سنگھ نے سری لنکا میں تملوں کے مسئلے کا سیاسی حل نکالنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ راجاپکشے ہندوستان کے چار روزہ دورے پر منگل کی شام دلی پہنچے تھے۔

وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے بھی صدر راجاپکشے سے ملاقات کی اور تین لاکھ بے گھر افراد کی باز آبادکاری کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔

جنوری میں دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد مسٹر راجاپکشے پہلی مربتہ ہندوستن کا دورہ کر رہے ہیں جسے کافی اہمیت دی جارہی ہے۔

سری لنکا کی فوج نے تقریباً ایک سال پہلے تمل باغیوں کی مزاحمت کو کچل دیا تھا اور تب سے بڑی تعداد میں تمل باشندے پناہ گزین کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔

سری لنکا کی سرکار نے خانہ جنگی کے خاتمے کے چھ ماہ کے اندر ان لوگوں کو دوبارہ بسانے کا وعدہ کیا تھا۔ اب ان کیمپوں کو بند کرنے کے لیے اگست تک کا وقت دیا گیا ہے۔

بھارت آنے سے پہلے انہوں نےحالیہ انتخابات کے بعد ملک کی سب سے بڑی تمل جماعت سے پہلی مرتبہ بات چیت کی۔ اگرچہ ان مذاکرات میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی لیکن بتایا جاتا ہے کہ بات چیت اچھے ماحول میں ہوئی۔ تمل نیشنل الائنس (ٹی این اے) نے اب تملوں کے علیحدہ ریاست سمیت اپنے کئی مطالبات ترک کر دیے ہیں۔

جنوبی ہندوستان میں سری لنکا کے تملوں کے لیے بہت ہمدردی ہے اور سری لنکا میں تملوں کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے اس کی باز گشت دلی میں بھی سنائی پڑتی ہے۔

سری لنکا میں تمل اس بات سے خوش ہوتے ہیں کہ جنوبی ہندوستان میں بہت سے تمل رہنما ان کے مسائل اٹھاتے ہیں لیکن سنہالا قیادت اسے سری لنکا کے معاملات میں مداخلت تصور کرتی ہے۔

اسی بارے میں