بھوپال سانحہ: وزارتی گروپ کی تشکیل

ہندوستان کی حکومت نے بھوپال سانحہ کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے ایک وزارتی گروپ تشکیل دیا ہے جو متاثرین کی آبادکاری اور معاوضے سے متعلق اپنی سفارشات حکومت کوپیش کرےگا۔

بھوپال سانحہ متاثرین
Image caption بھوپال گیس سانحہ کے متاثرین گزشتہ چھبیس برس سے انصاف کی لڑائی لڑرہے ہیں

وہیں ریاست مدھیہ پردیش کی حکومت نے بھوپال گیس سانحہ سے متعلق مقدمہ میں عدالت کے ’مایوس کن‘ فیصلہ کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شو راج سنگھ چوہان نے دارالحکومت بھوپال میں کہا کہ اپیل دائر کرنے سے پہلے حکومت کی قائم کردہ ماہرین کی ایک کمیٹی اس کیس کے تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔

پیر کے روز بھوپال کی ایک عدالت نے انیس سو چوراسی کے بھوپال گیس سانحے کے سلسلے میں آٹھ افراد کو مجرمانہ غفلت کا قصوروار قرار دیا تھا۔ ایک ملزم کی دوران سماعت موت ہو چکی ہے۔ باقی سات کو دو دو سال قید اور ایک ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی اور اسی دن ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

اس سانحے میں پندرہ ہزار سے زیادہ لوگ یونین کاربائڈ کی ایک فیکٹری سے رسنے والی زہریلی گیس کی زد میں آکر ہلاک ہو گئے تھے جبکہ لاکھوں آج تک تکلیف دہ بیماریوں کا شکار ہیں۔

عدالت کے فیصلے کے بعد سے گیس سانحے میں انصاف کا معاملہ ایک مرتبہ پھر سرخیوں میں آگیا ہے اور مبصرین کے مطابق حکومت کے اعلانات شاید اس تنقید سے بچنے کی کوشش ہیں جس کا اسے اب سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

وزارتی گروپ کی سربراہی وزیر داخلہ پی چدمبرم کریں گے اور اس میں وزیر قانون ویرپہ موئلی، شہری علاقوں کے وزیر جے پال ریڈی اور پارلیمانی امور کے وزیر غلام نبی آزاد سمیت کئی سینئر وزرا شامل ہوں گے۔

یہ گروپ سانحے کے تمام پہلوؤں کی باریکی سے معائنہ کرے گا اور امداد کے معاملے کے علاوہ اس بارے میں بھی اپنی سفارشات پیش کرےگا کہ آئندہ ایسے حادثات کو کیسے روکا جاسکتا ہے۔

اس کیس میں یونین کاربائڈ کے سابق سربراہ وارین اینڈرسن اصل ملزم ہیں جو امریکہ میں رہتے ہیں۔ اب بہت سے حلقوں کی جانب سے یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ انہیں الزامات کا سامنا کرنے کے لیے ہندوستان لانے کی کبھی سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں۔

اس مقدمے کی تفتیش سی بی آئی نے کی تھی جس کے ایک سابق اعلی اہلکار بی کے لال کا الزام ہے کہ وزارت خارجہ نے انہیں وراین اینڈرسن کے خلاف کارروائی کرنے کی تحریری ہدایت دی تھی۔ اس وقت نرسمہا راؤ ملک کے وزیر اعظم تھے۔

حکومت اگرچہ اس الزام سے انکار کر رہی ہے لیکن یہ معاملے آسانی سے ٹھنڈا ہوتا نظر نہیں آتا اور اب حزب اختلاف بی جے پی نے بھی اس سلسلےمیں حکومت کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ یہ بات تقریباً طے ہے کہ بی جے پی یہ معاملہ پارلیمان کے مون سون اجلاس میں اٹھائے گی۔

گیس متاثرین کی بہبود کے لیے کام کرنے والے لوگ اس بات پر حیرت ظاہر کر رہے ہیں کہ آخر عدالت کے فیصلہ پر حکومت اور حزب اختلاف دونوں کو اتنی حیرت کیوں ہو رہی ہے کیونکہ جن دفعات کے تحت ملزمان پر مقدمہ چلایا گیا تھا، اس میں دو سال سے زیادہ کی سزا کی گنجائش ہی نہیں ہے۔

اور ان الزامات کو خود سپریم کورٹ نے کم کیا تھا۔

اسی پس منظر میں حکومت ایک نیا سخت قانون بنانے پر بھی غور کر رہی ہے جس میں اس طرح کے حادثات سے نمٹنے کی تدابیر کی جائیں گی۔

اگرچہ وزیر قانون ویرپہ موئلی کےمطابق وارین اینڈرسن کے خلاف مقدمہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا حکومت اینڈرسن کی حوالگی کے لیے دوبارہ کوشش کرے گی یا نہیں۔

اسی بارے میں