قصاب کے وکلاء کو فون پر دھمکیاں

ممبئی حملوں کے مجرم اجمل امیر قصاب کے دفاعی وکلاء امین سولکر اور فرحانہ شاہ کے مطابق انہیں اس مقدمے سے دستبردار ہونے کے لیے دھمکی آمیز فون اور ایس ایم ایس پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔

ایڈوکیٹ سولکر کے مطابق انہیں موبائل فون پر دھمکی آمیز پیغام بھیجنے والے نے لکھا ہے کہ ’امین سولکر اور فرحانہ شاہ کو قصاب کا کیس لڑنے کی وارننگ، کیس لڑیں گے تو انجام بھگتنا ہو گا، امین بھائی میں نے آپ کو فون کر کے قصاب کا کیس لڑنے کے لیے نہیں بولا اور سمجھایا تھا، لیکن، آپ کو پیار کی بات سمجھ نہیں آئی ، دو دن کا وقت دے رہا ہوں۔۔۔۔۔‘

ایڈوکیٹ سولکر کو بھیجے گئےاس دھمکی بھرے پیغام کا اقتباس بی بی سی کے پاس ہے۔

سولکر نے بی بی سی کو بتایا ’انہیں اور فرحانہ شاہ کو ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے نامزد کیا ہے۔ وہ اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں۔ اس لیے اِس کیس سے ہٹنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا ہے۔‘

سولکر کا کہنا تھا ’وہ اس طرح کی دھمکی سے نہیں گھبراتے ہیں اور یہ بھی نہیں چاہتے کہ ملک کا ہر ایرا غیرا اُٹھ کر اس طر ح قانون کے محافظوں کو دھمکی دے اس لیے وہ اس کی شکایت ممبئی کرائم برانچ سے کریں گے۔‘

بی بی سی اردو کی نامہ نگار ریحانہ بستی والا کے مطابق سولکر کا شمار ممبئی کے سینئر وکلاء میں ہوتا ہے اور انہوں نے کئی حساس کیسوں میں ملزمان کی پیروی کی ہے۔

فرحانہ شاہ نے جو قصاب کیس میں سولکر کی اسسٹنٹ کے طور پر کام کر رہی ہیں کہا ’انہیں براہِ راست دھمکی نہیں ملی ہے لیکن ایڈوکیٹ سولکر کو ملی دھمکی میں اُن کا نام بھی شامل ہے۔‘

فرحانہ شاہ کا کہنا ہے کہ دھمکیاں ملنا اُن کے لیے بھی نئی بات نہیں ہے۔

یاد رہے کہ فرحانہ شاہ اس سے قبل سنہ انیس سو ترانوے میں بم دھماکہ کے تقریباً بیاسی ملزمان کا کیس لڑ چکی ہیں جن میں بالی وڈ اداکار سنجے دت بھی شامل ہیں۔

واضع رہے کہ قصاب کا کیس لڑنے والے تمام وکلاء ایڈوکیٹ عباس کاظمی، ایڈوکیٹ کے پی پوار کو اس سے پہلے بھی دھمکی مل چکی ہے اور عدالت کی جانب سے اِن تمام وکلاء کو پولیس تحفظ فراہم کیا جا چکا تھا۔

ممبئی حملوں کے مجرم اجمل امیر قصاب نے خصوصی عدالت کی جانب سے دی گئی موت کی سزا کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کی درخواست دائر کی تھی اور عدالت کے کارگزار چیف جسٹس جے این پٹیل نے ایڈوکیٹ امین سولکر اور اُن کی معاونت کے لیے ایڈوکیٹ فرحانہ شاہ کو مقرر کیا تھا۔

اسی بارے میں