پہلی غلطی، دوسری غلطی اور بارہ لاکھ کے جریدے

پہلی غلطی، دوسری غلطی

ممبئی پولیس
Image caption عبدالصمد کے گھروالوں نے اس دن کا ویڈیو فوٹیج میڈیا پیش کیا تھا جس دن دھماکہ ہوا تھا۔ ویڈیو میں عبدالصمد ایک شادی میں کھانا کھارہا تھا

پونے کی جرمن بیکری پر بم حملے کے سلسلےمیں ایک نوجوان کی گرفتاری کی خبر آپ نے سنی ہی ہوگی۔ یہ شخص دوبئی سے لوٹا تھا کہ اسے انسداد دہشت گردی سکواڈ نے ڈرامائی انداز میں ہوائی اڈے سے گرفتار کر لیا گیا۔

وزیر داخلہ پی چدمبرم نے فوراً بیان جاری کرکے کہا کہ عبدالصمد جرمن بیکری کیس کا اصل ملزم تھا اور انہوں نے پولیس کو شاندار کامیابی پر مبارکباد دی۔

اس کے بعد کہانی نے ایک اور ڈرامائی موڑ لیا۔ پولیس نے صمد کو عدالت میں پیش کیا لیکن اس کی گرفتاری اسلحہ کی فراہمی کے ایک پرانے کیس میں دکھائی۔ جرمن بیکری کا کوئی ذکر نہیں۔ اب عدالت نے عبدالصمد کو یہ کہہ کر ضمانت پر رہا کر دیا ہے کہ وہ اسلحے کے کیس میں بھی اس کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہیں۔

اب مہارشٹر کے ڈائریکٹر جنرل پولیس ڈی شیوانندن نے کہا ہے کہ دھماکہ پہلی غلطی تھی اور غلط تفتیش دوسری! ان کا کہنا ہے کہ صحیح وقت پر صحیح تفتیش کی جانی چاہیے!

اتنی سمجھداری کی بات کوئی انتہائی وسیع تجربہ والا پولیس افسر ہی کہہ سکتا ہے۔ باقی سب پہلے سے ہی یہ کہہ رہے تھے کہ اس بے چارے کو بلا وجہ پھنسایا جارہا ہے، وہ تو دھماکے کےدن بنگلور سے بہت دور ایک شادی کی دعوت کھا رہا تھا!

بارہ لاکھ کے جریدے

Image caption منموہن سنگھ کے دفتر میں دنیا کے تقریبا سبھی مشہور ترین اخبارات آتے ہیں

وزیر اعظم من موہن سنگھ بہت پڑھے لکھے انسان ہیں یہ تو سب جانتے ہیں لیکن ان کی قابلیت کا راز اب منظر عام پر آیا ہے۔

وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق من موہن سنگھ کے دفتر میں ایک لاکھ روپے مہینہ کے اخبار اور جریدے خریدے جاتے ہیں۔ پچھلے سال صرف اخبار والے کا ہی بل بارہ لاکھ روپے تھا۔

جو شخص اتنے اخبار پڑھتا ہو تو اس کی قابلیت میں کیا کمی رہ سکتی ہے؟ اور کسی دوسرے کام کے لیے اس کے پاس ٹائم کہاں سے آئے گا؟ تبھی تو منی پور کی ناکہ بندی دو مہنیے تک جاری رہی! اور وہ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ انہیں خبر نہیں ہوئی!

جسونت سنگھ کی گھر واپسی

Image caption محمد علی جناح کے بارے میں جسونت کی کتاب شائع ہونے کے بعد انہیں پارٹی سے نکال دیا گیا تھا

پارٹی سے نکالے جانے سے پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی میں محمد علی جناح کے سب سے بڑے مداح جسونت سنگھ جلدی ہی گھر واپس لوٹ جائیں گے۔ یہ خبر گرم ہے کہ بی جے پی صدر نتن گڈکری انہیں پارٹی میں واپس لینے کا جلدی ہی اعلان کرنے والے ہیں۔

آپکو یاد ہوگا کہ جسونت سنگھ کو جناح پر ان کی کتاب کی اشاعت کے فوراً بعد پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ اور کہا یہ جارہا ہے کہ جسونت سنگھ کی واپسی بی جے پی میں جناح کے دوسرے سب سے بڑے مداح لال کرشن اڈوانی کی کوششوں کے نتیجے میں ہو رہی ہے۔۔

ظاہر ہے کہ بی جے پی قائد اعظم کی لابی اب مضبوط ہو جائے گی! کیا مہاراشٹر کی پولیس کی طرح یہ پہلی غلطی کے بعد دوسری غلطی ہے۔