جوہری ملازمین میں اموات ’نارمل‘

بھابھا اٹامک ریسرچ سنٹر نے بھارتی جوہری پلانٹوں کے ملازمین پر کینسر کے خطرات کا ایک وسیع مطالعہ کیا تھا بھارت کے جوہری توانائی کے ادارے ڈی اے ای نے ذرائع ابلاغ کی ان خبروں کی تردید کی ہے کہ ملک کی جوہری تنصیبات میں کام کرنے والوں میں کینسر سے اموات کی تعداد غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔ادارے کا کہنا ہے کہ جوہری تنصیبات کے ملازمین میں کینسر سے اموات کی تعداد اتنی ہی ہے جتنی عام آبادی میں ہوتی ہے۔

ملک کے بعض اخبارات اور ٹی وی چینلوں نے یہ خبر دی تھی کہ گزشتہ پندرہ برس میں جوہری پلانٹوں کے ملازمین میں کینسر سے اموات میں خاصہ اضافہ ہوا ہے۔ ان خبروں میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ کینسر کے زیادہ واقعات کا سبب ان پلانٹوں ميں جوہری تابکاری ہو سکتا ہے۔ لیکن ڈی اے ای کا کہنا ہے کہ ان خبروں میں جو اعداد و شمار دیے گئے تھے وہ خود اٹامک انرجی کے محکمے نے فراہم کیے تھے لیکن ان اعداد وشمار کو غیر سائنسی طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔

جوہری توانائی کے ادارے کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بھابھا اٹامک ریسرچ سنٹر (بارک) نے 1990 کے عشرے میں ممبئی، حیدرآبار ، کلپکم اور الویئی کے جوہری پلاننٹوں کے ملازمین پر کینسر کے خطرات کا ایک وسیع مطالعہ کیا تھا۔ یہ مطالعہ مجموعی طور پر اٹھارہ برس کی مدت کے اعداد وشمار پرمبنی تھا اور اس میں17590 ملازمین کی تفصیلات جمع کی گئی تھیں۔ اس مطالعے میں مجموعی طور پر کینسر سے 81 اموات کا پتہ چلا تھا۔

ڈی اے ای کا کہنا ہے کہ عام آبادی میں بیس سے انسٹھ برس کی عمر کے لوگوں میں کینسر سے اموات کا تناسب ایک لاکھ کی آبادی پرتیس ہے جبکہ اٹامک انرجی کے ملازمین میں یہ تعداد 26 رہی ہے۔

اٹامک انرجی کے ادارے نے کہا ہے کہ ملازمین کے مطالعے کا یہ تجزیہ 2009 تک جاری رکھا گیا اور کینسر کے واقعات کا اوسط وہی پایا گیا جو پہلے کے مطالعے میں ملا تھا۔

لیکن جوہری امور پر نظر رکھنے والے ماہر پرفل بدوائی کا کہنا ہے کہ بھارت میں جوہری سلامتی کے پہلوؤں پر کنٹرول کے لیے ایک آزاد ادارے کی ضرورت ہے۔ ایک مضمون میں بدوائی نے لکھا ہے ’ملک میں جوہری تنصیبات کو چلانے، ان کی منصوبہ بندی کرنے، انہیں لائسنس جاری کرنے، تنصیبات تعمیر کرنے اور ان کا انتظام دیکھنے کے لیے ایک واحد ادارہ ہے ڈیپارٹمنٹ آف اٹامک انرجی اور یہی نگران اور ریگولیٹری ادارہ بھی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’اس ادارے کے حفاظتی عمل کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں معلوم، کسی حادثے کی صورت میں اس کی کیا تیاری ہے، حادثوں کا کیا ریکارڈ ہے اور یہ کہ طے شدہ حدود سے زیادہ جوہری تابکاری کا سامنا ہونے کی صورت میں یہ کیا کرے گا یہ سب ایک راز کی طرح ہے۔ لیکن جو معلوم ہے وہ یہ کہ یہ ادارہ جس طرح اپنی یورینیم کی کانوں میں کام کرتا ہے، جس طرح یہ جوہری سامان ٹرانسپورٹ کرتا ہے اور جس طرح جوہری فضلات کا ذخیرہ کیا جاتا ہے وہ تشویش کا سبب ہے۔‘

لیکن جوہری توانائی کا ادارہ اس طرح کی تنقید کو مسترد کرتا رہا ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ ملک کے جوہری پلانٹس پوری طرح محفوظ ہیں اوراس کی سلامتی کا موازنہ کسی بھی بین الاقوامی میعار سے کیا جا سکتا ہے ۔ ادارے کا کہنا ہے جوہری تنصبیات کی سلامتی کا ریکارڈ دنیا کے اولین جوہری ملکوں کے مساوی ہے۔

دلی میں ہمارے نامہ نگار شکیل اختر کا کہنا ہے کہ اٹامک انرجی کے ادارے کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت پر آیا ہے جب بھارت تقریباً ڈیڑھ سو ارب ڈالر کے اپنے سول جوہری بازار کی طرف غیر ملکی کمپنیوں کو راغب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

حکومت جلد ہی ایک بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے والی ہے جس میں کسی جوہری حادثے کی صورت میں غیر ملکی سپلائر کمپنیاں کتنا معاوضہ ادا کریں گی اس کا تعین کیا جائے گا۔

بھارت نے اپنی مستقبل کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جوہری توانائی پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ 2008 میں امریکہ سے جوہری اشتراک کے ایک معاہدے کے بعد بھارت امریکہ، روس اور فرانس سمیت کئی ملکوں سے متعدد جوہری ری ایکٹرتعمیر کرنے کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔

اسی بارے میں