کنشکا فضائی سانحہ: رپورٹ عنقریب

پچیس سال پہلے ائر انڈیا کے ایک طیارے کو آئرلینڈ کی فضائی حدود میں بم کے دھماکے سے اڑائے جانے کے واقعہ پر ایک انکوائری کمیشن اپنی رپورٹ پیش کرنے والا ہے۔

ائر انڈیا

ہندوستان کی شمالی ریاست پنجاب میں اس وقت علیحدگی کی تحریک اپنے شباب پر تھی۔ اس طیارے نے مانٹریال( کینیڈا) سے لندن کے راستے ممبئی کے لیے پرواز کی تھی کہ گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہوگیا۔

اس پر سوار سبھی تین سو انتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ حملے کے لیے پولیس نے سکھ شدت پسندوں کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا جن کا تلعق ببر خالصہ نامی تنظیم سے بتایا گیا تھا۔

حملے کے تقریباً بیس سال بعد کینیڈا نے اپنے دو سکھ شہریوں پر مقدمہ چلایا لیکن دونوں کو ہی شواہد نہ ہونے کی بنیاد پر رہا کر دیا گیا۔ اس حملے کے سلسلے میں صرف ایک شخص، اندر جیت سنگھ، کو سزا ہوئی ہے جس پر بم بنانے کا الزام ثابت ہوا تھا۔ ایک ملزم کی سماعت کے دوران ہی موت ہوگئی تھی۔

کینیڈا کی پولیس نے ریپو دمن سنگھ اور عجائب سنگھ پراس طیارے کو دھماکے سے اڑانے کے لیے اس پر ایک سوٹ کیس میں بم نصب کرنے کا الزام لگایا تھا۔ یہ واقعہ تئیس جون انیس سو پچاسی کو پیش آیا۔

طیارے کے سمندر پر گرنے کے صرف پینتالیس منٹ بعد جاپان کے نریٹا ہوائی اڈے پر بھی ایک سوٹ کیس میں دھماکہ ہوا تھا جس میں سامان اٹھانے والے عملے کے دو ارکان ہلاک ہوگئے تھے۔ یہ دھماکہ سوٹ کیس کے طیارے میں پہنچنے سے پہلے ہی ہوگیا تھا اور اس کا سفر بھی کینیڈا سے ہی شروع ہوا تھا۔

دونوں سوٹ کیس ’چیک ان‘ کرنے والے مسافر طیاروں میں سوار نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے کنیکٹنگ فلائٹس بک کرائی تھیں۔ دوسرا سوٹ کیس بھی ائر انڈیا کے ایک طیارے میں رکھا جانا تھا۔

اس مقدمے کے بعد زبردست ہنگامہ ہوا تھا اور کینیڈا کی حکومت نے دباؤ کے سامنے جھکتے ہوئے اس انکوائری کا حکم دیا تھا۔ لیکن بتایا جاتا ہے کمیشن کی رپورٹ سے بھی اس سوال کا کوئی واضح جواب نہیں ملے گا کہ حملے میں کس کا ہاتھ تھا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ کمیشن کو یہ پتہ لگانے کے لیے مزید تحقیق کرنے کے لیے نہیں کہا گیا تھا کہ اس حملے میں کس کا ہاتھ تھا۔

سپریم کورٹ کے سابق جج جان میجر کی قیادت میں اس کمیشن نے تقریباً دو سال تک اس واقعہ کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا اور اس دوران دو سو گواہ اس کے سامنے پیش ہوئے۔

کینیڈا کی تاریخ میں یہ دہشت گردی کا بدترین واقعہ تھا۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق رپورٹ میں ملک کے سکیورٹی نظام پر تنقید کی جائے گی اور سکیورٹی کے قومی صلاح کار کو وسیع اختیارات دینے کی سفارش کی جائے گی تاکہ تفتیشی ایجنسیوں کے درمیان تنازعات کو تفتیش کی راہ میں آڑے آنے سے بچا جا سکے۔