’دس ارب روپے میں آزادی‘

سابق سرپنچ بشیر احمد شاہ
Image caption بشیر ان ہزاروں سرپنچوں میں شامل ہیں جنہوں نے سال دو ہزار ایک کے پنچائتی انتخابات میں حصہ لیا تھا

وادی کے شمالی ضلع بانڈی پورہ کے گاؤں کوئیل مقام کے سابق سرپنچ بشیر احمد شاہ کا طویل انتظار ختم ہوگیا ہے، کیونکہ جموں کشمیر کی حکومت نے دس سال بعد ریاست میں پنچائتی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بشیر ان ہزاروں سرپنچوں میں شامل ہیں جنہوں نے سال دو ہزار ایک کے پنچائتی انتخابات میں حصہ لیا تھا۔

حکومت ہند نے دیہی پنچایتوں اور بلدیاتی اداروں کے انتخابات کے لیے ایک ہزار کروڑ روپے کی مالی امداد کی منظوری دی ہے۔ مقامی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ریاست کے چار ہزار ایک سو چھبیس پنچائتی حلقوں میں یہ انتخابات اس سال کے آخر تک منعقد ہونگے۔ تاہم حتمی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ کئی سال سے تاخیر کا شکار ان انتخابات کے ذریعے سوئٹزرلینڈ میں رائج لوکل سیلف گورننس نظام کی طرز پر ریاست میں ہرضلع کی ترقیاتی کونسل تشکیل دی جائے گی، جو اپنے تابع پنچایتوں اور بلدیاتی اداروں کے لیے مالی معاملات اور اخراجات کی نگرانی کرے گی۔

جموں کشمیر میں لوگوں کو خود حکمرانی کا موقع دینے کی خاطر سوِس ماڈل کو مرکزی حکومت میں پنچائتی راج کے سابق سیکریٹری وجاہت حبیب اللہ نے چند سال قبل متعارف کرایا تھا۔

حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پنچایتی راج سے حکومت اور عام لوگوں کے درمیان فاصلے مٹ جائیں گے اور یہ نظام لوگوں کے لیے آزادی کا متبادل ہوگا کیونکہ اس کے ذریعہ عام لوگوں کو انتظامی فیصلوں اور اخراجات میں اہم رول ملے گا۔

مقامی حکومت میں دیہی ترقی کے وزیر علی محمد ساگر نے ان اطلاعات کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ انتخابات کے لیےیو پی اے سرکار پہلے ہی ایک ہزار کروڑ روپے کی رقم منظور کرچکی ہے۔

بانڈی پورہ کے بشیر شاہ کہتے ہیں ’پنچائتی راج ایک طرح کا سماجی انقلاب ہوگا، مرکزی حکومت نے ایک ہزار کروڑ روپے کی رقم منظور کی ہے اور میں سمجھتا ہوں یہ دس ارب روپے میں آزادی خریدنے کے برابر ہے۔‘

لیکن اکثر علیٰحدگی پسند حلقوں میں ابھی پنچائتی راج سے متعلق تحفظات پائے جاتے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ علیٰحدگی پسند حلقے ابھی پنچائتی راج کی اہمیت اور افادیت کو سمجھ نہیں پائے ہیں۔

سخت گیر موقف رکھنے والے لیڈر سید علی گیلانی کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر میں ہونے والے الیکشن کسی بھی نوعیت کے ہوں، حکومت ہند ان انتخابات کواپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی ہے۔ مسٹر گیلانی نے بتایا کہ انہوں نے پنچایت الیکشن یا بلدیاتی اداروں کے انتخابات سے متعلق بیداری مُہم چلانے کا منصوبہ بنایا ہے۔

تاہم میرواعظ عمرفاروق کی سربراہی والے علیٰحدگی پسندوں کے ماڈریٹ دھڑے نے اس بارے میں محتاط ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ حریت کانفرنس کے سابق سربراہ پروفیسر عبدالغنی بٹ کہتے ہیں: ہمارے لیے کوئی بھی الیکشن نان اِشو ہے۔ ہم کہتے ہیں الیکشن ہوں یا نہ ہوں، مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی ضرورت اور شدت کم نہیں ہوگی۔ مزید پوچھنے پر انہوں نے بتایا: الیکشن سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑے گا، نہ ہم اس پر خوش ہیں نہ ناراض ہیں، لہٰذا بائیکاٹ مہم کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔

آٹھ سال تک علیٰحدگی پسند تحریک سے جُڑے رہنے کے بعد سال دو ہزار نو میں الیکشن سیاست میں حصہ لینے والے سجاد غنی لون پنچائت الیکشن کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے: 'ہم ان انتخابات میں ضرور حصہ لیں گے۔ ’میں وثوق سے کہتا ہوں کہ انتخابات میں حصہ نہ لینے کے بے وجہ فیصلہ نے علیٰحدگی پسند تحریک کو حاشیے پر دھکیل دیا ہے۔ اگر پندرہ سال قبل حریت نے الیکشن لڑا ہوتا تو آج نہ نیشنل کانفرنس ہوتی اور نہ پی ڈی پی۔‘

واضح رہے جموں کشمیر بھارت کی واحد ریاست ہے جہاں پنچایتوں اور بلدیاتی اداروں کے انتخابات میں حکومت ہند کا کوئی انتظامی یا آئینی دخل نہیں ہوتا۔

دیہی ترقی اور انتظامی امور کے ماہر وجاہت حبیب اللہ کہتے ہیں: جموں کشمیر دراصل تین قوموں پر مشتمل ہے۔ یہاں کشمیری ہیں، جموں کے لوگ ہیں اور لداخی ہیں۔ اسی طرح سوئٹزرلینڈ میں جرمن، فرانسیسی اور اطالوی نسلوں کے لوگ ہیں۔ اگر سوئٹزرلینڈ میں مقامی سطح پر خودحکمرانی کا ماڈل کارگر ہے، تو جموں کشمیر میں اس کے زیادہ ثمرات برآمد ہونگے۔

مسٹر وجاہت نے انکشاف کیا کہ انہوں نے ہر گاؤں کے لیے ایک انتظامی ڈھانچے کے اس ماڈل پر علیٰحدگی پسندوں سے بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔ ’آپ علیٰحدگی پسند کہیے یا مین سٹریم، کئی کشمیری سیاستدان جو میرے دوست بھی ہیں میرے ساتھ اس بارے میں خیالات کا تبادلہ کرچکے ہیں۔‘

قابل ذکر ہے کہ جموں کشمیر میں پنچائتی اور بلدیاتی انتخابات مقامی آئین کے تحت منعقد ہوتے ہیں اور جیتنے والے امیدواروں کو بھارتی آئین پر حلف لینے کی پابندی نہیں ہوتی۔

مقامی حکومت نے پہلے ہی ان انتخابات میں خواتین کے لیے تینتیس فی صد ریزرویشن کا اعلان کیا ہے۔ ریاستی وزیر علی محمد ساگر کہتے ہیں ’ہم چاہتے ہیں زیادہ سے زیادہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ان انتخابات میں حصہ لیں۔‘

مبصرین کا غالب حلقہ سمجھتا ہے کہ علیٰحدگی پسندوں کے انکار کے باوجود لوگ ان انتخابات میں حصہ لیں گے۔ کئی سماجی کارکنوں، کالم نگاروں اور مبصرین کے خیالات اس بات پر ایک سے نظر آتے ہیں کہ پنچائتی انتخابات میں لوگ علیٰحدگی پسندوں کی بائیکاٹ کال کو نظرانداز کریں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ پچھلے چند سال سے حکومتی سطح پر بہت سے ایسے فیصلے ہوئے جن پر لوگ ناراض ہیں۔ لوگوں کو اب احساس ہونے لگا ہے کہ الیکشن اور حکومتی امور سے الگ تھلگ رہ کر وہ اپنا نقصان کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دو ہزار آٹھ میں شدید ترین اور تاریخی تحریک کے بعد باسٹھ فی صد لوگوں نے ووٹ ڈالے۔

اسی بارے میں