انڈیا: رام جیٹھملانی جیت گئے

بھارت میں پارلیمان کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا کے ضمنی انتخابات میں سابق وزیر قانون رام جیٹھملانی اور آئی پی ایل کی ٹیم رائل چیلنجرز بنگلور کے مالک وجے مالیا جیت گئے ہیں۔

منتخب ہونے والے دوسرے بڑے رہنماؤں میں لوک جن شکتی پارٹی کے رام ولاس پاسوان، بی جے پی کے راجیو پرتاپ روڈی اور سابق پارٹی صدر وینکیا نائڈو بھی شامل ہیں۔

راجیہ سبھیا کے انتخابات میں عام طور پر کوئی حیرت انگیز نتائج سامنے نہیں آتے لیکن بی جے پی کے ٹکٹ پر رام جیٹھملانی کے میدان میں اترنے سے الیکشن میں کافی دلچسپی پیدا ہو گئی تھی۔

اعلیٰ کمان کے اس فیصلے کی پارٹی کے اندر سخت مخالفت ہو رہی تھی۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ انہوں نے پارلیمان کے اندر تقریر کرتے ہوئے افضل گورو کا بھرپور دفاع کیا تھا جنہیں پارلیمان پر حملے کے سلسلے میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے دو ہزار چار کے پارلیمانی انتخابات میں لکھنؤ سے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے خلاف الیکشن بھی لڑا تھا۔ اس وقت کانگریس نے ان کی حمایت کی تھی۔

پارٹی کے اس فیصلے کے خلاف کھل کر سامنے آنے والے رہنماؤں میں سابق وفاقی وزراء شتروگھن سنہا اور یشونت سنہا بھی شامل تھے۔ شتروگھن سنہا کا کہنا ہے کہ اس ٹکٹ پر بالی وڈ کی سابق سپر سٹار ہیما مالینی کا زیادہ حق بنتا تھا۔

اس خطرے کے پیش نظر کہ راجستھان سے بی جے پی کے اراکین اسمبلی بغاوت کر سکتے ہیں، انہیں پولنگ سے قبل کئی روز تک ایک ہوٹل میں بند رکھا گیا۔ کئی دولت مند امیدواروں کے میدان میں اترنے کی وجہ سے ووٹوں کی خرید و فروخت کے الزامات بھی لگائے جارہے تھے۔

جیٹھملانی نے پارلیمان میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ افضل گرو کو انصاف سے محروم رکھا گیا ہے کیونکہ ان کے مقدمے کی منصفانہ سماعت نہیں ہوئی تھی۔ رام جیٹھملانی کا شمار ملک کے سرکردہ قانونی ماہرین میں کیا جاتا ہے۔ لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ ان کی تقریر کو صحیح تناظر میں نہیں سمجھا گیا تھا۔

بہار سے پانچ سیٹیں خالی تھیں جن میں سے دو جنتا دل یونائٹڈ اور ایک ایک لوک جن شکتی پارٹی، راشٹریہ جنتا دل اور بی جے پی کو ملی ہے۔ راجستھان میں بی جے پی اور کانگریس کو دو دو سیٹوں پر کامیابی ملی۔

راجیہ سبھا میں چھپن سیٹیں خالی تھیں لیکن بتیس سیٹوں پر امیدوار بلا مقابلہ ہی منتخب ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں