ممبئی کے مضافاتی علاقے میں خوف

Image caption لوگ خوف کے مارے بچوں کو گھروں سے نکلنے نہیں دے رہے

ممبئی کے مشرقی مضافاتی علاقے کرلا نہرو نگر میں لوگ خوف کےماحول میں جی رہے ہیں ۔ وہ راتوں کو گروپ بنا کر پہرہ دیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں ان کی معصوم بچیوں کا اغوا کر کے ان کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے اور پھر بے رحمی کے ساتھ قتل کرنے والا ملزم ابھی آزاد گھوم رہا ہے۔

نصرت شیخ اس ملزم کی تیسری شکار تھی جسے ملزم نے اس ماہ شام چھ بجے اغواء کیا تھا۔ پھر اس کی لاش اسی علاقے کے ایک تین ماہ سے بند کمرے میں مسخ حالت میں ملی تھی۔

نصرت کی والدہ کو پولیس اور اس کی کارروائی پر بے انتہا غصہ ہے۔ ان کے مطابق اگر پولیس وقت پر کارروائی کرتی تو شاید ان کی بچی آج زندہ ہوتی۔ وہ کہتی ہیں کہ جب وہ پولیس میں اپنی بچی کے متعلق پوچھنے جاتیں تو پولیس کا جواب انتہائی سرد رہتا تھا۔ وہ کرائم برانچ بھی گئی تھیں لیکن وہاں بھی پولیس کا رویہ نامناسب تھا۔ لیکن نصرت کے والد کو یقین ہے کہ پولیس اچھی طرح کام کر رہی ہے بس ملزم کسی کی بھی گرفت میں نہیں رہا ہے۔

یہاں کے لوگ پولیس کی کارروائی سے ناراض بھی ہیں۔ وہ یہ ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں کہ پولیس پوری ایمانداری کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق وہ سب غریب ہیں اس لیے پولیس سنجیدگی کے ساتھ کیس حل نہیں کر رہی ہے۔

Image caption عینی شاہدین کی مدد سے بنایا گیا ملزم کا خاکہ

والدین اب اتنے خوفزدہ ہیں کہ بچوں کو وہ اب تنہا نہیں چھوڑتے سکول چھوڑنے جاتے ہیں اور پھر سکول سے واپس لانے بھی۔ تمام سکولوں کے باہر پولیس کا زبردست پہرہ رہتا ہے۔ کوئی بچہ اب گلی میں کھیلتا نظر نہیں آتا ہے۔ پولیس کے بھروسے رہنے کے بجائے لوگ خود راتوں کو ٹیم بنا کر پہرہ دیتے ہیں۔ ہاتھ میں لاٹھی اور ٹارچ لے کر جوان اور ادھیڑ عمر سبھی رات بھر جاگ کر پہرہ دیتے ہیں۔

چار ماہ کے عرصہ میں تین کم سن سکول جانے والی بچیوں کا اغواء اور پھر قتل کی لگاتار وارداتوں سے علاقے کے والدین ہی نہیں پولیس اور حکومت بھی پریشان ہے اسی لیے حکومت نے ملزم کی اطلاع دینے والے کو بطور انعام ڈھائی لاکھ روپیہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ پولیس نے مشتبہ ملزم کا سکیچ بھی جاری کیا ہے جو انہوں نے عینی شاہدین اور اس ایک بچی کی مدد سے تیار کیا جو اسے اغواء کرنے والے شخص کے ہاتھ پر کاٹ کر بھاگنے میں فرار ہو گئی تھی۔

کچی بستیوں پر مشتمل گنجان آبادی والا نہرو نگر علاقہ پوری طرح پولیس قلعہ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ علاقے میں داخل ہونے والی سڑک پر سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں۔ پولیس ڈاگ سکواڈ مستقل علاقہ کا چکر لگاتے ہیں۔ پولیس کمشنر نے اس کیس کی تفتیش کے لیے ستائیس ٹیم کی تشکیل کی جو ہر گھر میں جا کر لوگوں سے تفتیش کر رہے ہیں۔ کیس کی تفتیش کرائم برانچ کےحوالےکر دی گئی ہے۔ لیکن اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود ابھی تک ملزم پولیس یا مقامی افراد کی گرفت سے باہر ہے۔

اغواء جنسی زیادتی اور قتل کی پہلی واردات فروری میں ہوئی تھی۔ ثانیہ نامی بچی کے قتل کے بعد اسے بوری میں بھر کر زیر تعمیر عمارت میں پھینک دیا گیا تھا۔ دوسرا شکار انجلی جیسوال ہوئی جس کی لاش کرلا میں پولیس کی رہائشی عمارت کے ٹیریس پر ملی۔ اس لاش کے ملنے کے بعد سے علاقہ میں سنسنی پھیل گئی تھی۔ پولیس بھی شک کے دائرے میں آگئی تھی۔

Image caption پولیس ملزم کو پکڑنے کی پوری کوشش میں ہے

ان دو اموات کے بعد پولیس نے علاقے کے ایک عادی چور محمد اجمیری کو گرفتار کیا۔ لیکن اس کے ڈی این اے ٹیسٹ کا نتیجہ منفی آیا اس لیے عدالت نے اسے دس ہزار روپے کی ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

اب پولیس ایک بار پھر اندھیرے میں ہے۔ ریاستی وزیر داخلہ آر آر پاٹل نے کرلا نہرو نگر سٹیشن اور ریاستی وزیر مملکت برائے داخلہ رمیش باگوے نے علاقہ کا دورہ کیا۔ ڈپٹی پولیس کمشنر دلیپ ساونت کی نگرانی میں اس کیس کی تفتیش جاری ہے۔ علاقہ اور اس کے اطراف پولیس کا کومبنگ آپریشن جاری ہے۔ پولیس کمشنر سنجیو دیال کا کہنا ہے کہ اب تک اتنے بڑے پیمانے پر پولیس کا کومبنگ آپریشن کبھی نہیں ہوا تھا۔