سانحہ بھوپال: حکومتی امداد ناکافی

سانحہ بھوپال کی مہم چلانے والے افراد نے ہندوستان کی حکومت کی جانب سے متاثرین کی امداد کے لیے اعلان کردہ دو سو اسی میلن ڈالرز کی رقم کو ناکافی قرار دیا ہے۔

بھوپال متاثرین

واضح رہے کہ پیر کے روز بھوپال کی ایک عدالت نے انیس سو چوراسی کے بھوپال گیس سانحے کے سلسلے میں سات افراد کو مجرمانہ غفلت کا قصوروار قراردے کر انہیں دو سال قید سنائی تھی۔

اس سانحے میں اب تک پندرہ ہزار سے زیادہ افراد یونین کاربائڈ کی ایک فیکٹری سے رسنے والی زہریلی گیس کی زد میں آکر ہلاک ہو گئے تھے جبکہ لاکھوں آج تک تکلیف دہ بیماریوں کا شکار ہیں۔

عدالت کے فیصلے کے بعد سے گیس سانحے میں انصاف کا معاملہ ایک مرتبہ پھر سرخیوں میں آگیا ہے اور مبصرین کے مطابق حکومت کے اعلانات شاید اس تنقید سے بچنے کی کوشش ہیں جس کا اسے اب سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

عدالتی فیصلے اور میڈیا کی جانب سے ہونے والی تنقید کے بعد حکومت نے سینئر وزراء پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو متاثرین کو فراہم کرنے والے معاوضے کی دوبارہ جانچ کرے گی۔

سانحہ بھوپال کی مہم چلانے والے افراد جمعہ کو دلی میں ملاقات کریں گے جس کے بعد وہ حکومت کی جانب سے متاثرین کے لیے اعلان کردہ نا کافی رقم کے خلاف احتجاج کریں گے۔

مس رچنا ڈھنگرہ نے بی بی کو بتایا ’ہم حکومت کی جانب سے اعلان کردہ معاوضے سے مطمئن نہیں، ہم متاثرین کی بحالی کے پلان سے بھی مطمئن نہیں ہیں۔‘

حکومت کی جانب سے اعلان کردہ نئے معاوضے سے اب مرنے والے افراد کے گھرانوں کو بائیس ہزار ڈالرز دیے جائیں گے جبکہ زخمی افراد کو بھی دوگنا معاوضہ دیا جائے گا۔

وزیر ایمبیکا سونی کا کہنا ہے ’حکومت یونین کاربائڈ کے اُس وقت کے چیئرمین وارن اینڈرسن کے خلاف نیا ثبوت اکھٹا کرے گی اور امریکہ سے اُن کی بھارت حوالگی کی درخواست کی جائے گی۔‘

وزیر ایمبیکا سونی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اِس سانحے کے دوران پینتالیس ہزار سے زیادہ متاثرہ افراد کو دوگنا معاوضہ دیا جائے گا۔

اُن کے مطابق بھوپال میں ایک ریسرچ سینٹر کے قیام اور مقامی افراد کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے فنڈز اکھٹے کیے جائیں گے۔

انہوں نے مذید کہا کہ اِس رقم سے زہریلی فیکڑی کو صاف کرنے کا کام بھی کیا جائے گا اور اُسے سنہ دو ہزار بارہ تک گرا دیا جائے گا۔

دوسری جانب مہم کار ستھی ناتھ سارنگی کا کہنا ہے کہ حکومت متاثرین کو ہونے والے نقصان کا اندازہ لگانے میں ناکام رہی ہے۔

یاد رہے کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان مجرموں کے تبادلے کے حوالے سے ایک معاہدہ موجود ہے اورامریکہ وارن اینڈرسن کو بھارت کے حوالے کرنے کی متعدد درخواستوں کو مسترد کر چکا ہے۔

اسی بارے میں