کولکتہ: اسلحے سے لدا بحری جہاز تحویل میں

بحری جہاز ایجئن گلوری
Image caption ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ جہاز پر فوجی سامان کہاں سے لوڈ کیا گیا تھا اور ان کی منزل کیا تھا

بھارت میں حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے پاکستان جانے والے ایک بحری جہاز کو تحویل میں لے لیا ہے جس میں بڑی تعداد میں غیر اعلانیہ فوجی اسلحہ لدا ہوا تھا۔

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یا آئی ایس پی کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کا کہنا ہے کہ وہ بحری جہاز کے واقعے کے حوالے سے معلومات حاصل کر رہے ہیں اور جب تک معلومات نہیں ملتی اس پر تبصرہ کرنا قبل از وقت ہو گا۔

کولکتہ پولیس کے ڈائریکٹر جنرل بھوپندر سنگھ کا کہنا ہے کہ بحری جہاز کو اس وقت تحویل میں لیا گیا جب وہ بھارتی شہر کولکتہ کی بلیو ڈائمنڈ بندرگاہ پر لنگر انداز تھا۔

انھوں نے امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ پاناما میں رجسٹرڈ بحری جہاز ایم وی ایجئن گلوری لائبریا سے روانہ ہوا تھا اور موریشس کے راستے بنگلہ دیش اور وہاں سے کولکتہ پہنچا تھا۔

انھوں نے کہا کہ جہاز کے کپتان کی اطلاع پر معلوم ہوا کہ کلیئرنگ ایجنٹ نے جہاز میں لدے فوجی سامان کے بارے میں واضح طور پر کچھ نہیں بتایا ہوا تھا ۔انھوں نے بتایا کہ جہاز کے اگلی منزل پاکستان کا شہر کراچی تھا۔

پولیس افسر کے مطابق غیر اعلانیہ فوجی ساز و سامان میں راکٹ لانچرڑ اینٹی ائر کرافٹ گنز شامل ہیں۔ ہتھیاروں کی منزل کے بارے میں ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ جہاز کو خفیہ اطلاع پر ضبط کیا گیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی نے پولیس افسر بھوپندر سنگھ کے حوالے سے بتایا ہے کہ جہاز پر لدے دو کنٹینرز میں کوسٹل گارڈز اور نیوی کے اہلکاروں کو بڑی تعداد میں دھماکہ خیز مواد، راکٹ لانچر، اینٹی ائر کرافٹ بندوقیں اور چند بم ملے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق کولکتہ کے انسپکٹر جنرل نے یہ بتانے سے گریز کیا ہے کہ فوجی اسلحے کو وصول کس نے کرنا تھا۔

پولیس افسر نے کولکتہ میں ایک نیوز کانفرس میں بتایا کہ جہاز کے کپتان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

دلی سے ہمارے نامہ نگار شکیل اختر کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ اس بحری جہاز پر ہتھیار کس بندرگاہ سے چڑھائے گئے تھے۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں بھارتی حکام نے متحدہ عرب امارات کے ایک ہوائی جہاز کو اس وقت تحویل میں لیا تھا جب وہ چین جاتے ہوئے کولکتہ میں تیل حاصل کرنے کے لیے روکا تھا۔ حکام نے معمول کی تلاشی کے دوران جہاز پر لدے اسلحے کے بارے میں دریافت کیا تو عملہ اس کی معلومات نہیں دے پایا تھا۔ متحدہ عرب امارات کی حکومت کی جانب سے اسلحے کے بارے میں پہلے سے واضح طور پر آگاہ نہ کرنے پر معذرت کی تھی جس کے بعد جہاز کو جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

اسی بارے میں