کشمیر میں جعلی مقابلے

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں اس سال اپریل میں تین افراد غائب ہو جاتے ہیں۔

کشمیر میں اس طرح لوگوں کا غائب ہوجانا کوئی غیر معمولی خبر نہیں تھی لیکن کچھ دنوں بعد ان تینوں کی لاشیں لائن آف کنٹرول کے قریب سے بازیاب کی جاتی ہیں۔

پولیس کی تحقیقات کے بعد پتا چلا کہ ان تینوں کو ایک جعلی مقابلے میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔

ان ہی تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ فوج کے ایک میجر نے ان تینوں کو مزدوری کی پیش کش کر کے اٹھوایا تھا۔

فوج نے بعد میں پولیس کو خبر دی کہ انھوں نے تین شدت پسندوں کو ایک مقابلے میں ہلاک کر دیا ہے۔ فوج نے یہ بھی دعوی کیا کہ ان تینوں کے پاس سے پاکستان کے کرنسی نوٹ اور اسلحہ برآمد ہوا ہے۔

بھارتی فوج کے اس میجر کو معطل کر دیا گیا اور کچھ اور افسروں کا تبادلہ کر دیا گیا۔ فوج نے ان تحقیقات میں پولیس سے بھر پور تعاون کرنے کا یقین دلایا۔

تو کیا جعلی مقابلوں کا دور جن میں سکیورٹی فورسز مبینہ طور پر ماورائے عدالت قتل کرتی ہیں کشمیر میں واپس آ گیا ہے؟

تمام سیاسی راہنما جن میں بھارت نواز اور بھارت مخالف دونوں طرف کے راہنما شامل ہیں یہی خیال ہے۔

بھارت کی زیر انتظام کشمیر میں حزب اختلاف کی بھارت نواز ایک بڑی سیاسی جماعت کی راہنما محبوبہ مفتی کا خیال ہے کہ بھارتی فوج میں بھی پاکستانی فوج کی طرح انتہا پسند عناصر ہیں جن کی سوچ یہ ہے کہ کشمیر میں پاکستان کی طرف سے دراندازی اور اسلحہ بھیجنے کا شور مچار کر مقامی آبادی کو ہراساں اور پاکستان پر سیاسی دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے۔

کشمیر کے وزیر قانون علی محمد ساگر کا کہنا ہے کہ گزشتہ بیس برس میں جعلی مقابلوں کے بےشمار واقعات ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جعلی مقابلے کے تازہ ترین واقعے کی تحقیقات کے دوران پتا چلا کہ ندیہال میں تین افراد کو اغواء کر کے اور انھیں شدت پسند قرار دے کر ہلاک کرنے والے فوجی کو ترقی اور نقد انعام بھی دیا گیا۔

لیکن فوج یہ بات ماننے کو تیار نہیں ہے کہ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے پر نقد انعام بھی دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ سب کہانیاں ہی ہیں۔

فوج کے ترجمان لیفٹینٹ کرنل جے ایس برار نے کہا کہ نقد انعام بہادری کی بنیاد پر دیا جاتے ہیں۔

فوج کا کہنا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے کی کسی فوجی کو اجازت نہیں دیتی اور کوئی بھی فوجی کو ایسے کسی جرم کا ارتکاب کرنے پر فوراً سزا دی جاتی ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ ہزار سے زیادہ ایسی شکایات کی تحقیقات کی گئی ہیں جن میں سے زیادہ تر جھوٹی ثابت ہوئیں۔

لیکن جعلی مقابلوں کی کہانیاں ہر تھوڑ عرصے بعد منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔

تین سال قبل گندربل کے علاقے میں جعلی مقابلے کی تحقیقات کے دوران پانچ لاشیں کھود کر نکالی گئیں تھیں۔ ان پانچوں آدمیوں کو پاکستانی درانداز قرار دے کر دفنا دیا گیا تھا اور بعد میں پتا چلا کہ ان پانچوں کا تعلق مقامی گاؤں سے تھا۔

اس سلسلے میں ضلعی پولیس افسر اور کچھ افسروں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں نے اس پر یہ سوال اٹھایا کہ پولیس اور فوج کے اس مشترکہ جعلی مقابلے میں کیوں کوئی فوجی گرفتار نہیں کیا گیا۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے رضاکاروں نے چند سال قبل بارامولہ اور کپواڑہ کے اضلاع میں تین ہزار ایسی قبروں کی نشاندھی کی تھی جن میں دفنائے گئے لوگوں کے بارے میں کچھ پتا نہیں۔

انسانی حقوق کے کام کرنے والے ایک ایسے ہی رضا کار خرم پرویز کا کہنا ہے کہ ان میں سے پچاس لاشوں کو شناخت کے لیے نکالا گیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ سینتالیس میں صرف ایک شخص مقامی شہری نہیں تھا۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ سکیورٹی فورسز اور فوج کو آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ کے تحت حاصل خصوصح اختیارات اگر واپس لے لیے جائیں تو جعلی مقابلوں کو روکا جا سکتا ہے۔

اس قانون کے تحت فوج کو تلاشی اور حراست میں لینے کے اختیارات حاصل ہیں۔ مزید براں فوج کو جرائم سے استثنٰی بھی حاصل ہے تاوقت ہے کہ حکومت خصوصی طور پر کسی واقعہ میں ملوث فوجیوں سے یہ استثنیٰ واپس نہ لے لے۔

قانوں کسی فوجی کے ہاتھوں غلطی سے یا ناگیزر صورت حال میں قتل ہوجانے کی صورت میں تحفظ فراہم کرتا ہے۔

میاں عبدالقیوم سمیت بہت سے قانون دانوں کا یہی خیال ہے کہ اس قانون کا بےجا استعمال کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایسے واقعات میں بھی جہاں کسی فوجی نے کسی بے گناہ شہری کو دانستہ طور پر قتل کیا ہو حکومت نے اس قانون کے تحت حاصل استثنیٰ واپس لینے سے انکار کر دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حکومت کی سوچی سمجھی پالیسی ہے اور یہ فوجیوں کا انفرادی فعل نہیں ہے۔

تمام سیاست جماعتیں جن میں حزب اقتدار کی نیشنل کانفرنس بھی شامل ہے حکومت سے یہ مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ اس قانون کو کالعدم قرار دیا جائے تاکہ فوجیوں کو جوابدہ بنایا جا سکے۔

لیکن حکومت کی طرف سے اب تک اس قانون کو واپس لینے کا کوئی عنیدہ نہیں دیا گیا۔

اس وقت کشمیر میں اکثر لوگوں کا یہی خیال ہے کہ جعلی مقابلوں کے واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔

اسی بارے میں