لکھنؤ میں مولویوں کی پٹائی

Image caption خواتین کا کہنا ہے کہ عورتوں کو اس سے پہلے بہت دیر ہو جائے باہر آنا چاہیے

لکھنؤ میں ایک شرعی عدالت میں تین خواتین نے مدرسے کے اندر گھس کر دو مولویوں کی پٹائی کر دی۔

شرعی عدالت کے دو قاضیوں نے دو سگی بہنوں نشاط فاطمہ اور عرشی بی بی کے شوہروں سے، بقول ان خواتین کے، رشوت لے کر اس عورت کی جعلی طلاق کے کاغذ جاری کر دیئے تھے۔

ان خواتین نے باقی خواتین سے بھی کہا ہے کہ وہ خاموشی سے ظلم برداشت نہ کریں۔

لکھنؤ سے فون پر بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے نشاط فاطمہ کی بہن عرشی بی بی نے کہا کہ ’وجہ یہ بنی کہ ان مولویوں نے ہماری یک طرفہ طلاق کرا دی نہ ہماری صورت دیکھی نہ ہمارے کہیں دستخط تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ ان مولویوں نے نشاط فاطمہ کے شوہر کا نکاح ایک ہندؤ لڑکی سے کرا کر اسے نینی تال بھیج دیا۔

عرشی بی بی نے کہا کہ وہ جب ان مولویوں کے پاس گئیں تو انھوں نے کہا کہ وہ اسی صورت میں ان کو واپس ان کے شوہروں کے پاس بھیج سکتے ہیں کہ اگر وہ ان مولویوں سےمتعہ کر لیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ مولوی کہتے تھے کہ بڈھا جوان نہ دیکھیں متعہ کر لیں اور ایک ہفتے ان کے ساتھ رہ لیں۔

انھوں نے کہا کہ اس پر ان کے اندر جو جولامکھی پک رہا تھا وہ پھٹ گیا اور ہاتھا پائی ہوگئی۔

نشاط فاطمہ نے کہا کہ ’ان حضرات کی پٹائی کرکے دل کو کتنا سکون ملا ہے میں بیان نہیں کر سکتی۔‘

ادھیڑ عمر کی نشاط فاطمہ کی شادی نینی تال کے ایک پراپرٹی ڈیلر سے ہوئی تھی۔ نشاط فاطمہ کو جب ان ہمسائیوں سے یہ خبر ملی کہ ان کے شوہر نے ایک جعلی طلاق نامہ حاصل کرکے انھوں نے ان کی ایک سہیلی سے کر لی ہے۔ نشاط فاطمہ نے کہا کہ ’میں نے جب چھان بین کی تو یہ خبر درست نکلی‘۔ انھوں نے کہا کہ طلاق نامہ ڈھائی ہزار روپے کی رشوت لے کر جاری کیا گیا تھا۔

نشاط نے کہا کہ ان لوگوں کی سماج میں ایک حیثتیت ہے اور ان سے لوگ توقع کرتے ہیں کہ وہ دھوکے بازی نہیں کریں گی۔

انھوں نے باقی خواتین سے کہا کہ وہ خاموشی سے ظلم سہنے کے بجائے باہر نکلیں اور ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں۔