کشمیر:مظاہرے جاری، درجنوں افراد زخمی

فائل فوٹو
Image caption کرفیو کے باوجود بعض علاقوں میں بھارتی فورسز کے خلاف احتجاج ہوا ہے

بھارت کے زیرانتظام وادی کشمیر میں مظاہروں کا دائرہ پھیل گیا ہے اور سنیچر کی صبح سوپور، بارہمولہ اننت ناگ ، کپوارہ اور بڈگام اضلاع میں تشدد کی مختلف وارداتوں میں کم از کم بیس افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

پوری وادی میں سنیچر کو علیٰحدگی پسندوں کی کال پر ہڑتال کی جا رہی ہے اور اس موقع پر حکام نے کرفیو میں نرمی کا اعلان کر دیا تھا۔

کپوارہ کے ترہگام علاقہ میں جمعہ کی شب پولیس کاروائی میں ایک عمررسیدہ شہری کے شدید زخمی ہونے کے خلاف سنیچر کی صبح ہزاروں لوگوں نے جلوس نکالا جس کے خلاف پولیس اور نیم فوجی دستوں نے سخت کارروائی کی۔ پولیس کاروائیوں میں مزید دس افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق تشدد میں اُس وقت اضافہ ہوا جب پولیس نے مظاہرین کی تحویل سے کشمیری مسلح تحریک کے بانی مقبول بٹ کی تصویریں چھین کر ان کی مبینہ طور پر بے حرمتی کی۔ واضح رہے ترہگام مقبول بٹ کا آبائی گاؤں ہے۔

مقبول بٹ نے ساٹھ کی دہائی میں کشمیر میں زیرزمین مسلح تحریک چلائی جو ناکام ہوگئی تھی اور بعد میں اُنیس سو نواسی میں ایک نئی تحریک کی بنیاد ڈالی۔ بھارت اور پاکستان دونوں سے آزادی کے خواہشمند مقبول بٹ کو اُنیس سو چوراسی میں دلّی کی تہاڑ جیل میں پھانسی پر لٹکایا گیا۔

دریں اثنا ضلع بڈگام، جو حالیہ کشیدگی کے دوران مجموعی طور پرامن رہا، میں بھی سنیچر کو مظاہرے ہوئے ہیں۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم کےبعد ضلع کے چاڈورہ قصبہ میں نوگام، کرالہ پورہ، نائیک باغ، اور دیگر بستیوں میں نوجوانوں نے مظاہرے کیے۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے ان علاقوں میں سخت سیکورٹی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ اِدھر پرانے سرینگر میں سنیچر کو بھی کرفیو رہا تاہم نواحی علاقوں میں پابندیوں میں نرمی کی گئی۔

حریت کانفرنس کے ایک دھڑے کے سربراہ میرواعظ عمرفاروق اپنے ہی گھر میں نظر بند ہیں۔ انہوں نے اپنی رہائشگاہ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت ہند کو انتباہ دیا کہ اگر سرکاری فورسز پرامن اور نہتے مظاہرین کے خلاف طاقت اور تشدد کا استعمال کرینگے تو مظاہروں کا سلسلہ ختم نہیں ہوگا۔

میر واعظ نے بھارتی وزیرداخلہ چدامبرم کے اس بیان کی تردید اور مذمت کی جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ مظاہرین میں جرائم پیشہ افراد اور مسلح گروپ لشکر طیبہ کے کارکن شامل ہوتے ہیں۔

میرواعظ نے حکومت ہند سے مخاطب ہوکر کہا کہ کشمیر میں حکمرانوں کو بدلنے سے حالات ٹھیک نہیں ہوں گے۔ ’حکومت ہند حقائق سے آگاہ ہے، لیکن وہ جان بوجھ کر آنکھ چُرا رہی ہے ۔ یہ تو مسئلہ ہے جسے حل کرنے کے لیے پاکستان اور کشمیریوں کو حتمی فیصلہ سازی میں شامل کرنا ہی ہوگا‘۔

انہوں نے مقامی میڈیا اور ٹیلیفون رابطوں پر پابندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی بعض ٹی وی چینلز اور اخبارات کشمیر کے حالات کو دہشتگردی اور فرقہ واریت کے ساتھ نتھی کرکے بھارتی عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔

’یہ ایک پر امن تحریک ہے۔ کوئی بندوق نہیں، کوئی تشدد نہیں۔ لیکن جس طرح بھارتی فورسز پرامن اور نہتے مظاہرین کو چن چن کر قتل کروا رہی ہے، لگتا ہے بھارت اس تحریک کو تشدد کی نظر کرکے یہاں کے عوام کو تہہ تیغ کرنا چاہتا ہے۔ لیکن میں بھارتی قیادت کو خبردار کرتا ہوں کہ اس رویہ کا انتہائی بھیانک ردعمل ہوگا‘۔

اسی بارے میں