آخری وقت اشاعت:  پير 5 جولائ 2010 ,‭ 07:55 GMT 12:55 PST

پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ: ہڑتال اور احتجاج

فائل فوٹو
بھارت میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج اور ہڑتال کی وجہ سے کئی ریاستوں میں روز مرہ کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

ملک گیر ہڑتال کی اپیل بی جے پی اور بائیں بازو کی جماعتوں نے الگ الگ کی ہے۔ حزب اختلاف کے اقتدار والی ریاستوں میں ہڑتال کا اثر سب سے زیادہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

مغربی بنگال، کیرالہ، بہار، کرناٹک اور مدھیہ پردیش میں ہڑتال کا بہت زیادہ اثر ہوا ہے۔ ممبئی، کولکتہ اور بنگلور میں متعدد پروازین منسوخ کر دی گئی ہیں۔ بہار، اتر پردیش، بنگال اور مہاراشٹر اور دلی میں حزب اختلاف کے حامیوں نے ٹرینوں کی آمد و رفت روک دی ہے۔

متعدد ریاستوں میں بسیں اور پبلک ٹرانسپورٹ کی تمام خدمات معطل اور بازار بند ہیں ۔

دارالحکومت دلی میں بی جے پی کے کارکنوں نے متعدد مقامات پر مظاہرے کرتے ہوئے سڑکوں پر جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔

بی جے پی کے کارکنوں نے دلی کے کئی علاقوں میں میٹرو ریلوے روک دی ہے اور بعض سٹیشنوں پر تالہ لگا دیا گیا ہے۔

دلی کے بیشتر سکول احتیاطً بند کر دیے گئے ہیں ۔

لکھنؤ، ممبئی اور پنے میں ہڑتالی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ لکھنؤ میں پولیس نے بی جے پی کے کئی رہنماؤں اور کارکنوں کو اس وقت گرفتار کر لیا جب مظاہرین تشدد پر اتر آئے ۔

بی جے پی کے ایک ترجمان سدھارتھ ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ’ہمیں پتہ ہے کہ حکومت محض ایک ہڑتال سے جھکنے والی نہیں ہے اس لیے ہم نے احتجاج کا ایک مکمل منصوبہ تیار کر رکھا ہے ۔‘

بھارتی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما ڈی راجہ نے ایک مظاہرے کی قیادت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’حکومت عام لوگوں کی بات کرتی ہے لیکن اس کی اقتصادی پالیساں عام آدمی کے خلاف ہیں ، حکومت عوام کی ناراضگی کا نوٹس لے۔‘

حکومت عام لوگوں کی بات کرتی ہے لیکن اس کی اقتصادی پالیساں عام آدمی کے خلاف ہیں حکومت عوام کی ناراضگی کا نوٹس لے

ڈی راجہ

دلی سے ہمارے نامہ نگار شکیل اختر کا کہنا ہے کہ حکومت نے پٹرول، ڈیزل ، گھریلو گیس اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں حال میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمتوں پر سرکاری کنٹرول ختم کر دیا تھا۔

وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے کہا ہے کہ حکومت ’ملک کسی قیمت پر اس طرح کی سستی سیاست کے آگے جھکنے والی نہیں ہے۔‘

حزب اختلاف کے سینیر رہنما ایل کے اڈوانی نے کہا’ حکومت اگر اضافہ واپس نہیں بھی لیتی تو بھی یہ حزب اختلاف کی ذمے داری ہے کہ وہ عوام کے جذبات کو حکومت تک پہنچائے۔‘

دلی سمیت ملک کے مختلف شہرون میں حزب اختلاف کے رہنما عوامی جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں ۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔