کشمیر: زندگی بحال مگر سینکڑوں گرفتاریاں

فائل فوٹو
Image caption کرفیو کے بعد بازار کھلے ہیں لیکن کشدیگی برقرار ہے

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کئی روز کی ہڑتالوں اور مسلسل کرفیو کے بعد اتوار کو وادی میں زندگی بحال ہوتی نظر آئی ہے لیکن پتھراؤ کے الزام میں وسیع پیمانے پرگرفتاریوں کے خلاف لوگوں میں ناراضگی پائی جاتی ہے اور اس کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں۔

تین ہفتوں کی کشیدگی کے بعد اتوار کو تمام کاروباری ادارے سرگرم رہے اور بازاروں میں چہل پہل رہی یہاں تک کہ ہفتہ وار تعطیل کے باوجود بینکوں میں بھی لین دین ہوا۔ لیکن جنوبی ضلع اننت ناگ میں مظاہروں کے بعد دوبارہ سیکورٹی پابندیاں عائد کی گئیں۔

سید علی گیلانی کے حریت کانفرنس دھڑے نے سینچر کی شام اتوار سے معمول کا کام کاج بحال کرنے کی اپیل کی تھی۔ اس کال کے پیش نظر اکثر قصبوں سے حکام نے کرفیو ہٹالیا۔ کپواڑہ میں پولیس فائرنگ کی وجہ سے ایک عمررسیدہ شہری کے زخمی ہونے کے بعد حالات اب بھی کشیدہ ہیں، لیکن بارہمولہ اور سوپور میں کئی ہفتوں بعد اتوار کو عام لوگوں نے سکھ کا سانس لیا۔

دریں اثنا جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں اتوار کی صبح جب معمول کی زندگی شروع ہوئی تو نوجوانوں نے قصبہ میں تین لڑکوں کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے خلاف شاہراہ پر دھرنا دیا اور بھارت مخالف نعرے بازی کی۔ اس پر پولیس اور نیم فوجی دستوں نے طاقت کا استعمال کرکے انہیں منتشر کردیا۔

جب دوسری بستیوں میں بھی مظاہرے شروع ہوئے تو ضلع میں دوبارہ سخت سیکورٹی پابندیاں نافذ کردی گئیں۔ اس دوران وکلا کی انجمن بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں عبدالقیوم نے تین ہلاک شدہ نوجوانوں کے والدین اور عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے میں عدالتی کارروائی کرینگے۔

اِدھر گیلانی گروپ نے سوموار کو تمام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اننت ناگ کی طرف مارچ کریں۔ قابل ذکر ہے کہ مقامی حکومت علیٰحدگی پسندوں کی طرف سے طے شدہ کسی بھی مارچ کو ناکام بنانے کے لئے سیکورٹی پابندیاں نافذ کرتی ہے اور ایک روز پہلے ہی علیٰحدگی پسند کارکنوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہو جاتی ہے۔ اننت ناگ مارچ سے کشیدگی کے خدشات کو دیکھتے ہوئے اتوار کو سرینگر، بارہمولہ، سوپور اور بانڈی پورہ کے بازاروں میں ضروری اشیا کی خوب خریداری ہوئی۔

اس دوران پولیس نے مظاہروں کے مزید امکانات کو روکنے کے لیے نوجوانوں کی گرفتاری کا سلسلہ تیز کردیا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف سرینگر میں پچھلے ایک ہفتے کے دوران کم از کم پانچ سو لڑکوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

Image caption سخت سکیورٹی کے باوجود لوگ غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں

سرینگر میں چودہ سالہ محمد اکرم کی ماں اور اس کے اقربا نے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت اس کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا۔ قابل ذکر ہے کہ سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کئے جانے والے نوجوانوں کو اکثر پبلک سفٹی ایکٹ کے تحت دو سال تک جیل میں قید رکھا جاتا ہے۔

پچھلے تین سال سے کشمیر میں نابالغ لڑکوں کو باقاعدہ جیلوں میں قید کرنے کا رواج عام ہورہا ہے۔ اس کے خلاف انسانی حقوق اداروں نے کئی مرتبہ احتجاج کیا اور حکام سے مطالبہ کیا کہ صوبے میں نابالغ لڑکوں کے خلاف قانونی کارروائی کے لئے ’چائلڈ رائٹس کمیشن‘ قائم کیا جائے۔

تاہم کشمیر پولیس کے سربراہ فاروق احمد کہتے ہیں : ’امن و قانون کو بگاڑنے کی اجازت کسی کونہیں دی جائے گی۔ پتھرباز جہاں بھی ہوں ہم انہیں پکڑ لینگے۔‘

واضح رہے کشمیر میں موجودہ شورش جون کے اوائل میں اُسوقت شروع ہوئی تھی جب جموں کشمیر پولیس نے انکشاف کیا کہ شمالی کشمیر کے مژھل سیکٹر میں فوج نے جن تین ’دہشت گردوں‘ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا وہ دراصل بارہمولہ میں نادی ہل گاؤں کے رہنے والے عام شہری تھے جنہیں فرضی جھڑپ میں قتل کیا گیا تھا۔ اس انکشاف پر فوج مخالف مظاہرے ہوئے۔ سرینگر میں بارہ جون کو ایک ایسے ہی مظاہرے کے خلاف پولیس کارروائی میں طفیل احمد نامی نوجوان کی موت ہوگئی جس سے حالات مزید بگڑ گئے۔ اس کے بعد سرینگر، سوپور اور اننت ناگ میں یکے بعد دیگرے چودہ نوجوان پولیس اور نیم فوجی دستوں کی گولیوں اور اشک آور گولوں کا شکار ہوکر ہلاک ہوگئے۔ وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ کئی مرتبہ لوگوں سے تعاون کی اپیل کرچکے ہیں لیکن کشیدگی کا ماحول برقرار ہے۔

Image caption کشمیر میں ڈل جھیل کے اوپر گھرے بادل چھائے ہوئے

اسی بارے میں