مارچ روکنے کے لیے وادی میں کرفیو

کشمیر پولیس
Image caption کرفیو کے دوران اضافی فورس کو تعینات کیا گیا ہے

ہندوستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں علیٰحدگی پسندوں کی کال پراننت ناگ مارچ کو ناکام بنانے کے لیے سوموار کو پوری وادی میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔

وادی کے تمام بارہ اضلاع میں کرفیو کو نافذ کرنے کے لیے بھارتی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کو تعینات کیا گیا ہے۔

سید علی گیلانی کی سربراہی میں حریت دھڑے نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ سوموار کو اننت ناگ کی طرف مارچ کریں اور وہاں جاکر متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔

سرینگر میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور نے بتایا ہے کہ جنوبی ضلع اننت ناگ میں حالیہ ہلاکتوں کے خلاف اٹھائیس جون کو مظاہرے ہوئے تو مقامی پولیس کی جوابی کارروائی میں قصبے کے تین نوجوان مارے گئے تب سے وہاں کرفیو نافذ ہے۔ اتوار کو پوری وادی میں کرفیو میں رعایت دی گئی لیکن اننت ناگ میں مظاہروں کے بعد دوبارہ کرفیو نافذ کیا گیا۔

اننت ناگ کے ڈپٹی کمشنر جے پال سنگھ نے بتایا: ’کرفیو نافذ رہے گا۔ ہم نے اضافی فورس منگوائی ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا‘۔ واضح رہے کہ پچھلے تین ہفتوں کے دوران کشمیر کے بیشتر اضلاع میں کرفیو کے باوجود لوگوں نے مظاہرے کیے جس دوران مزید ہلاکتیں ہوئیں۔

اننت ناگ میں ہلاک ہونے والے تین نوجوانوں میں سے ایک شجاعت الاسلام کے ایک رشتہ دار محمد اکرم نے بتایا: ’سرینگر، قاضی گنڈ، اور دوسرے قصبوں سے آنے والے راستوں پر ٹین کی چادریں لگا دی گئیں ہیں۔ قصبے میں ہر جگہ خار دار تاریں ہیں اور فورسز فیلگ مارچ کررہے ہیں۔ خوف کا عالم ہے۔‘

اُدھر شمالی ضلع بارہمولہ اور سوپور میں بھی حالات برابر کشیدہ ہیں۔ سرینگر میں ایتوار کے روز لوگوں نے ضروری اشیا کی خریداری کی، تاہم سوموار کی صبح لوگوں نے اپنے آپ کو گھروں میں محصور پایا۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتا ہفتے بھارتی وزیر داخلہ پی چدامبرم نے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ سے کہا تھا کہ وہ لوگوں کے ساتھ رابطہ بحال کرنے کے لئے متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں۔

انہوں نے اتوار کو سرینگر میں تجارتی انجمنوں کے نمائندوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔

سوموار کو کرفیو کے دوران عمرعبداللہ ہیلی کاپٹر کے ذریعہ بارہمولہ گئے جہاں انہوں نے بعض تاجروں اور سماجی کارکنوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعلیٰ پہلے ہی اعتراف کرچکے ہیں کہ لوگ ان سے ناراض ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ پتھراؤ، ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے ناراضی کے اظہار کا غیر قانونی طریقہ ہے جس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دریں اثنا سرینگر اور دوسرے قصبوں میں گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ شرپسند عناصر کو گرفتار کررہی ہے۔ تاہم عوامی حلقوں کا کہنا ہے محض مظاہرے میں شمولیت پر سینکڑوں نوجوانوں کو قید کیا گیا ہے۔

پولیس نے پہلے ہی سید علی گیلانی اور شبیر شاہ سمیت کئی علیٰحدگی پسندوں کو قید کرلیا ہے۔ پولیس ذرایع کے مطابق گیلانی کے ترجمان مسرت عالم بٹ روپوش ہوگئے ہیں اور انہیں تلاش کرنے کے لیے جگہ جگہ چھاپے مارے جارہے ہیں۔ حریت کانفرنس کے ایک دھڑے کے چیئرمین میرواعظ عمرفاروق بھی گھر میں نظربند ہیں۔ میرواعظ عمر فاروق نے بی بی سی کو فون پر بتایا: ’حکومت تشدد کرتی ہے۔ یہ لوگ طاقت کے ذریعہ پرامن مظاہروں کو کچل رہے ہیں۔ اس کے بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں‘۔

اسی بارے میں