مہنگائی کے خلاف ہڑتال، ممبئی سنسان

بی جے پی کارکنان ہڑتال کے دوران نعرے لگاتے ہوئے
Image caption ہڑتال کا اثر کئی ریاستوں میں دیکھا جارہا ہے

ہندوستان میں حزب اختلاف سیاسی جماعتوں کی جانب سے مہنگائی کے خلاف بند کے اعلان کی وجہ سے ممبئی تقریبا سنسان ہو گئی ہے۔

ذرائع نقل و حمل کے متاثر ہونے کی وجہ سے ممبئی ایئر پورٹ سے چالیس سے زائد پروازیں مسترد کر دی گئی ہیں۔

مہاراشٹر کے دیگر اضلاع پون، ناسک اور امراؤتی میں ہڑتال کا ملا جلا اثر ہے۔ مہاراشٹر پولیس کنٹرول کے مطابق جگہ جگہ مظاہرے ہو رہے ہیں لیکن کسی بھی طرح کے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

ممبئی شہر میں البتہ سڑکوں سے رکشہ اور ٹیکسیاں غائب تھے۔ بیشتر ڈرائیوروں کا کہنا تھا کہ وہ شیوسینا اور مہاراشٹر نو نرمان سینا کے تشدد سے واقف ہیں اس لیے وہ نہیں چاہتے کہ ان کو کسی طرح کا نقصان پہنچے۔

متعدد مقامات پر بسوں پر پتھراؤ اور توڑ پھوڑ کی وارداتیں ہوئی ہیں۔ شہر کے حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے چپہ چپہ پر پولیس تعنیات ہے جو مظاہرہ کرنے والوں کو گرفتار بھی کر رہی ہے۔

مقامی بیسٹ کی بسوں پر پتھراؤ کے باوجود بسیں چل رہی ہیں۔ بیسٹ کے ترجمان تمبولی نے بتایا کہ بیسٹ کی اٹہتر بسوں پر پتھراؤ کیاگیا۔ جن کی وجہ سے ڈرائیور اور کنڈکٹروں کو معمولی زخم آئے ہیں۔ لوکل ٹرینیں چل رہی ہیں لیکن خالی ہیں کیونکہ لوگ گھروں سے باہر ہی نہیں نکلے ہیں۔

سیاسی جماعتوں کے اراکین نے ممبئی کی لائف لائن یعنی ٹرینوں کو روکنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے لاٹھی چارج کے بعد متعدد مقامات سے سیکڑوں مظاہرین کو گرفتار کیا۔

مہاراشٹر میں کانگریس کی حکومت ہے اور وزیراعلی اشوک چوان نے سرکاری دفاتر اور سکولوں کو کھلا رکھنے کی ہدایت دی ہے لیکن دفاتر میں حاضری کم رہی اور والدین نے بچوں کو سکول نہیں بھیجا اس لیے سکولیں بند کر دی گئی ہیں۔

بیشتر علاقے سنسان ہیں کیونکہ دکانداروں نے اپنی دکانیں نہیں کھولی ہیں۔ اس مرتبہ شیوسینا اور مسنے جیسی پارٹیوں کے اراکین نے بھی اس پر تشدد انداز میں مظاہرے نہیں کیے جس کے لیے وہ جانے جاتے تھے کیونکہ عدالت کے فیصلہ کے بعد سے بند کے دوران توڑ پھوڑ کے لیے ان پارٹیوں سے ہرجانہ کی رقم وصول کیے جانے کے احکامات ہیں اور انہوں رقم کی ادائیگی بھی کی ہے۔

تھانے میں چند مقامات سے تشدد کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ لوگوں نے بسوں کے ٹائر جلائے اور ان میں توڑ پھوڑ کی۔ پولی نے متعدد افراد کو حراست میں لیا ہے۔

پونے پمپری چنچوڑ علاقے سے ملی اطلاع کے مطابق یہاں کی چند بسوں پر مظاہرین نے پتھراؤ کیا تھا۔ رکشہ سڑکوں سے غائب ہے لیکن آئی ٹی سیکٹر اور کارپوریٹ سیکٹر میں حاضری معمول کے مطابق ہے کیونکہ یہ کمپنیاں اپنی بسیں چلاتی ہیں جو سٹاف کو ان کے گھر سے لاتے ہیں۔

ناسک اور امراؤتی میں شیوسینا اور منسے جیسی پارٹیوں کا اثر رسوخ ہے اس لیے ان علاقوں میں کافی علاقے بند ہیں۔

ریاست بھر سے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔

اسی بارے میں