دھونی ساکشی کے اور نائپال ہندوستانی بھی اور نہیں بھی

دھونی کی شادی

دھونی اپنی بیوی کے ساتھ
Image caption دھونی نے سگائی کے دوسرے روز ہی شادی کر لی

ہندوستانی کرکٹ ٹیم کےکپتان مہندر سنگھ دھونی آخر ساکشی کے ہولیے۔ بالکل ٹوئنٹی ٹوئنٹی سٹائل میں۔ چوبیس گھنٹے کے اندر منگنی بھی اور شادی بھی۔

اور اتنے بڑے سٹار کی شادی صرف ساٹھ مہمانوں کی موجودگی میں ہوئی جنہیں اطلاعات کےمطابق دعوت نامے نہیں’ پاس‘ جاری کیے گئے تھے!

لگتا ہے کہ پاس تو جاری کر دیئے لیکن اس میچ کے لیے وہ ٹکٹ چھپوانا بھول گیے! تبھی مہمانوں کی تعداد اتنی کم رہی!

دھونی، مانا کہ آپ بہت تیز کھیلتے ہیں، لیکن اگر آپ چوبیس گھنٹے میں سگائی بھی کریں گے اور شادی بھی تو کہیں نہ کہیں تو چوک ہو ہی جائے گی۔ جلد بازی میں ایسا ہو جاتا ہے، شکر ہے کہ آپ نے سگائی شادی کے بعد نہیں کی، آپ تو ٹیم کے کپتان ہیں، بیٹنگ آرڈر میں کبھی بھی پھیر بدل کرسکتے ہیں!

میں ہندوستانی یا شاید نہیں بھی

وی ایس نائپال کا نام تو آپنے سنا ہی ہوگا۔ بڑے مصنف ہیں، انگریزی ادب کے لیے نوبیل انعام یافتہ بھی۔ ان کے آبا و اجداد انیسویں صدی میں اترپردیش کے مشرقی ضلع گورکھپور سے ویسٹ انڈیز چلے گئے تھے۔ وہاں گنّے کے کھیتوں میں کام کرنے کے لیے۔ پھر وہیں بس گئے۔

Image caption مسٹر نائپال کو بھارتی کارڈ نہیں مل سکا

یہاں جب بھی نائپال کے ذکر ہوتا ہے، تو فخر سے کہا جاتا ہے کہ وہ بھارتی نژاد ہیں۔

نائپال بھی ہندوستان کو بہت پسند کرتے ہیں، ان کی کتابوں اور کرداروں سے ان کی محبت جھلکتی ہے لیکن اب وہ شاید اپنی رائے بدل لیں۔

انہوں نےگزشتہ دنوں برطانیہ میں ہندوستانی ہائی کمیشن سے درخواست کی کہ انہیں پی آئی او کارڈ جاری کیا جائے۔ ( پرسن آف انڈین اوریجن یا بھارتی نژاد افراد کو جاری کیے جانے والے کارڈ)۔

سفارت خانے نے ان کی درخواست یہ کہہ کر مسترد کردی ہے کہ ان کے پاس ہندوستان سے اپنا تعلق ثابت کرنے کے لیے دستاویزات نہیں ہیں!

غریبوں کے لیے بند

ہندوستان میں اپوزیشن کی جماعتیں مہنگائی کے خِلاف اپنی عام ہڑتال کی کامیابی سے کافی خوش ہیں۔ لیکن ہڑتالوں کا سلسلہ ابھی جاری رہے گا۔ منگل کو اتر پردیش میں اور پھر بہار میں بند کی اپیل کی گئی ہے۔

صنعتی اور کاروباری اداروں کی تنظیموں کے مطابق پیر کی ہڑتال سے تین ہزار کروڑ روپے سے لیکر تیرہ ہزار کروڑ تک کا نقصان ہوا۔

اگر مہنگائی کے خلاف ہڑتالیں اسی شدت سے جاری رہیں تو ہو سکتا ہے کہ سیاست دانوں کے بعد خود غریب بھی سڑکوں پر اتر آئیں۔ مہنگائی کے نہیں ہڑتالوں کے خلاف!

اسی بارے میں