کشمیر: دو نوجوان ہلاک، حالات کشیدہ

فائل فوٹو
Image caption کشمیر میں پھر تناؤ کی صورت حال ہے

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں مزید دو نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد سرینگر میں پھر ایک بار تناؤ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

ہلاکتوں کی خبر پھیلتے ہی وادی کے بیشتر اضلاع میں ہڑتال اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

حکومت نے سکیورٹی پابندیوں کو سخت کردیا ہے اور سڑکوں پر سکیورٹی بڑھا دی ہے۔

سری نگر کی نواحی بستی ٹینگ پورہ کے سترہ سالہ نوجوان کی مبینہ طور حراستی ہلاکت کے خلاف منگل کی صبح لوگوں نے مظاہرے کیے۔

مظاہرین پر پولیس نے براہ راست فائرنگ کی اور تین افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم راستے میں تیس سالہ فیاض احمد وانی نے زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ دیا۔ وانی کے مامو جاوید احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ فیاض احمد کے سر میں گولی لگی تھی۔

سری نگر سے ہمارے نامہ نگار ریاض مسرور کا کہنا ہے کہ اس واردات سے متعلق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سرینگر کے جنوب میں بائی پاس شاہراہ پر واقع ٹینگ پورہ اور گنگ بُگ بستیوں کے چند نوجوان سوموار کی شام سڑک پر پتھراؤ کررہے تھے کہ نیم فوجی دستوں نے ان کا تعاقب کیا اور چند لڑکوں کو گرفتار کیا۔ پوچھ گچھ کے بعد سترہ سالہ مظفر احمد کے علاوہ سب کو چھوڑ دیا گیا ہے۔

رہا کیےگئے ایک نوجوان کے چاچا سجاد احمد نے بی بی سی کو بتایاکہ ’جب مظفر لاپتہ ہوگیا تو ہم نے رات بھر سڑک پر احتجاج کیا۔ سینیئر پولیس افسر بھی موقعہ پر آئے، اور انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ ہم رات بھر وہیں رہے۔‘

سجاد کا کہنا ہے’ منگل کو صبح سویرے چند نوجوان ندی کے کنارے بیٹھے تھے کہ انہوں نے فورسز اہلکاروں کو مظفر کی لاش ندی میں پھینکتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے شور مچایا اور لوگوں نے مظاہرہ کیا۔ مظاہرین پر پولیس نے راست فائرنگ کی جس میں دو بیٹیوں کا باپ فیاض وانی مارا گیا۔‘فیاض سرکاری ملازم تھا اور فٹ بال و کرکٹ کھیلوں میں مہارت کے لیے لوگ اسے ’بادشاہ خان‘ کہتے تھے۔

مقامی شہری شبیر احمد نے بتایا کہ فیاض کی ہلاکت کے بعد ٹینگ پورہ، گنگ بگ اور بٹہ مالو کے باشندوں نے زبردست احتجاج کیا۔ شبیر کے مطابق فورسز اہلکاروں نے بستیوں پر دھاوا بول دیا اور مکانوں کے شیشے توڑ دیے اور لوگوں کا زد کوب کیا۔

پولیس کی کارروائی میں احتجاجی جلوس کی عکس بندی کر رہے متعدد میڈیا فوٹوگرافر بھی زخمی ہوگئے ہیں۔ فوٹو گرافرس ایسوسی ایشن کے صدر فاروق خان سمیت کم از کم دس صحافیوں کو چوٹیں آئی ہیں۔ ایک بھارتی ٹی وی چینل کے لیے کام کرر ہے کیمرہ مین نے دعویٰ کیا کہ اس نے پولیس اہلکار کو فیاض پر راست فائرنگ کی عکس بندی کی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ٹیپ کا مشاہدہ کرینگے۔

Image caption سکیورٹی فورسز کی ظلم و زیادتیاں جاری ہیں

انسپکٹر جنرل آف پولیس فاروق احمد نے بی بی سی کو فون پر بتایا ہے کہ ’ہم اس معاملہ کی تفتیش کررہے ہیں۔ ہم دیکھ رہے کہ مظفر کی موت پانی میں ڈوب جانے سے ہوئی ہے یا کسی اور وجہ سے۔ ہم فائرنگ کے واقعہ کی بھی تحقیات کررہے ہیں۔‘

اس واقعہ کی خبر شہر میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ علیٰحدگی پسندوں کی طرف سے مظاہروں کی کال کے پیش نظر شہر میں پہلے ہی تناؤ تھا اور حکومت نے تمام تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اعلان کیا تھا۔ ہلاکتوں کا انکشاف ہوا تو شہر میں مزید پولیس فورس کو تعینات کیا گیا۔ شہر کے سینیئر پولیس افسر شوکت شاہ نے بتایا ہے کہ ’ تناؤ کی صورتحال ہے لیکن ہم لوگ تیار ہیں۔‘

قابل ذکر ہے کہ وزیر اعلیٰ، جو جموں کشمیر کے وزیرداخلہ بھی ہیں، نے پیر ہی کو کہا تھا کہ نہتے نوجوانوں کی ہلاکت کو ’ برداشت‘ نہیں کرینگے۔

واضح رہے پولیس اور نیم فوجی دستوں کے ذریعہ فائرنگ اور آنسو گیس کے استعمال سے پچھلے ایک ماہ کے دوران تازہ ہلاکتوں سمیت سولہ افراد ہلاک گئے ہیں۔

چار جولائی کو حکومت نے تمام اضلاع سے کرفیو ہٹالیا تھا اور توقعہ تھی کہ حالات بحال ہوجائینگے۔ لیکن اننت ناگ مارچ کے خلاف سوموار کو پھر سے سخت کرفیو نافذ کیا گیا۔ علیٰحدگی پسندوں نے طلبا و طالبات سے اپیل کی تھی کہ وہ منگل کو وردی پہن مظاہرے کریں جس پرحکومت نے تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اعلان کیا۔

اسی بارے میں