کشمیر فوج کے حصار میں، کوئی اخبار نہیں نکل سکا

Image caption سرینگر سے کسی بھی اخبار کے شائع نہ ہونے پر احتجاج کرتے ہوئے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں صحافیوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں جمعرات کو بھی حالات انتہائی کشیدہ ہیں، میڈیا سرگرمیوں پر پابندی کی وجہ سے کوئی اخبار شائع نہیں ہو سکا، عام زندگی معطل ہے اور دو روز سے جاری فوجی محاصرے کے خلاف کشمیر کے مخلتف حصوں میں جلوس اور احتجاجی دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے۔

کئی مقامات پر سینکڑوں افراد پر مشتمل ہجوم نےکرفیو کی خلاف ورزی کی کوشش کی۔تاہم فوج اور پولیس نے انھیں منتشر کر دیا۔ بارہمولہ میں ایک جلوس نکالا گیا جبکہ بانڈی پورہ سے بھی جلوس اور دھرنے کی اطلاعات ملی ہیں۔ پولیس نے مظاہرین پر شیلنگ کی ہے اور کئی مقامات سے لوگوں کو حراست میں لیے جانے کی خبریں ملی ہیں۔

سرینگر میں جنگ کے لیے مخصوص فوجی گاڑیاں (آرمرڑ وہیکلز) شہر کی شاہراہوں پرگشت کررہی ہیں۔ ان گاڑیوں پر جدید ہتھیار نصب ہیں اور فوجی اہلکاروں نے سروں پر سیاہ نقاب اور آنکھوں پر خاص قسم کے کالے چشمے پہن رکھے ہیں۔

جنوبی کشمیر کے اننت ناگ، پلوامہ، کولگام اور شوپیان میں سخت کرفیو اور مسلسل فوجی گشت کی وجہ سے عام زندگی معطل ہے۔ اننت ناگ کے مٹن، دیالگام اور سنگم میں لوگوں نے محاصرہ توڑنے کی کوشش کی تاہم انہیں منتشر کیا گیا۔ ان کوششوں کے بعد محاصرہ مزید سخت کردیا گیا۔

ادھر ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکام کی طرف سے میڈیا پر پابندیوں کے خلاف پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں صحافیوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

گیارہ جون سے چھہ جولائی تک کا بیشتر عرصہ کرفیو اور ہڑتالوں کی نذر رہا ہے اور چھ جولائی کو حالات بے قابو ہوجانے پر فوج طلب کرلی گئی تھی۔ اس عرصے میں مظاہرین کے خلاف پولیس اور نیم فوجی دستوں کی مختلف کارروائیوں میں پچیس سالہ خاتون اور نوسالہ بچے سمیت پندرہ نوجوان ہلاک ہوچکے ہیں۔

بھارتی حکومت میں نائب وزیر دفاع ایم ایم پلّم راجو ایک بیان میں کہہ چکے ہیں کہ کشمیر کی شاہراہوں پر امن قائم ہوجانے تک فوج موجود رہے گی۔ سرینگر میں تعینات فوج کی پندرہویں کور کے ترجمان لیفٹنٹ کرنل ایچ ایس برار نے بی بی سی کو بتایا: ’ ہم لوگ پولیس اور نیم فوجی دستوں کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں، اگر کہیں مظاہرے ہوں گے تو ان کا مقابلہ پولیس یا نیم فوجی دستے کریں گے۔‘

ذرائع ابلاغ پر پابندیاں

حکام نے بدھ کو ہی میڈیا سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی تھی جس کے باعث سرینگر سے کوئی بھی اخبار شائع نہیں ہوسکا۔کشمیری صحافی اور فوٹوگرافر گھروں تک محدود ہوکر رہے گئے ہیں۔ حالیہ پولیس کاروائیوں میں گیارہ فوٹو جرنلسٹ زخمی ہوگئے ہیں۔

Image caption فوج کشت کے دوران جدید اسلحوں کی نمائش کر رہی ہے

کشمیر میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں دو نوجوان شدید زخمی ہوگئے ہیں۔ محاصرہ توڑنے کی بیشتر کوششیں شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور جنوبی ضلع اننت ناگ میں ہوئی ہیں۔

جمعرات کی صبح بارہمولہ کے ہی رفیع آباد علاقہ میں سینکڑوں لوگوں نے فوجی محاصرہ کے خلاف ایک جلوس نکالا اور شاہراہ پر دھرنا دیا۔ بارہمولہ کے شہری اشفاق احمد نے بتایا کہ بدھ کو دیر رات گئے قصبے سے جانے والی ایک بارات کو فوج نے روکا اور دولہا دلہن سمیت درجنوں افراد کو رات کے دو بجے تک حراست میں رکھا۔ بعد میں انہیں جانے دیا گیا۔

بانڈی پورہ ضلع میں بھی لوگوں نے فوجی محاصرہ کے خلاف مظاہرے کیے تاہم پولیس نے شیلنگ کرکے انہیں منتشر کردیا۔ اس واقعہ میں دو شہریوں اور مقامی پولیس افسر شمشیر سنگھ کو چوٹیں آئی ہیں۔

اس دوران سوپور میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک پچاس سالہ خاتون نے گزشتہ روز اُس وقت دم توڑ دیا جب ایک ایمبولینس جس میں اسے ہسپتال لے جایا جارہا تھا، کو نیم فوجی دستوں نے ماڈل ٹاؤن کے قریب چاروں طرف سے گھیر لیا۔ تاہم سرکاری ترجمان نے محکمہ صحت کے اہلکاروں کا حوالہ دے کر کہا ہے کہ خاتون پہلے سے ہی مردہ تھیں۔

بارہمولہ کے ہی پٹن قصبہ میں بدھوار کی شام لوگوں کی بڑی تعداد نے فوجی محاصرہ کے خلاف سرینگر، مظفرآباد شاہراہ پر دھرنا دیا۔ مقامی باشندے تصدق احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ جب فوج اور نیم فوجی دستوں کا ایک مشترکہ کارواں وہاں سے گزرا تو فوجی اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی جس پر لوگوں نے مزاحمت کی۔

اس کے بعد فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور دو کلومیٹر تک ان کا تعاقب کیا۔ تصدق کا کہنا ہے کہ فورسز نے کئی مکانوں کے شیشے توڑ دیے اور درجنوں افراد کو زد و کوب کیا۔ زخمیوں میں سے گوشہ بگ کے رہنے والے شوکت احمدیتو اور محمد شفیع صوفی کو نیم مردہ حالت میں سرینگر کے صدر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

اس دوران وکلا کی انجمن کشمیر بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں عبدالقیوم کو پولیس نے چھاپے کے دوران گرفتار کرلیا جس کے بعد انتظامیہ نے انہیں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیل بھیجنے کا حکم جاری کردیا۔ وکلا نے مسٹر قیوم کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے اور عدالتوں میں غیرمعینہ عرصہ تک بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

کشمیر میں ڈاکڑوں اور میڈیکل کالج کے طلبا نے جمعرات کی صبح شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے احاطے میں حالیہ ہلاکتوں کے خلاف مظاہرہ کیا۔ محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ فوجی محاصرے کی وجہ سے صحتِ عامہ کا شعبہ متاثر ہوا ہے اور ہنگامی صورتحال میں ایمبولینس کی نقل و حرکت بھی مشکل ہوگئی ہے۔

اسی بارے میں