' عدلیہ کانچ کا گڑیا نہیں ہے'

پاکستان میں سپریم کورٹ میں اٹھارویں ترمیم کی سماعت کرنے والے سترہ رکنی بینچ کا کہنا ہے کہ عدلیہ کی آزادی کوئی کانچ کی گُڑیا نہیں ہے کہ کسی کمیشن کی تشکیل سے اُسے ٹھینس پہنچے۔

پاکستان سپریم کورٹ

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سترہ رکنی بینچ نے اٹھارویں ترمیم کی کچھ شقوں کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت شروع کی تو راولپنڈی بار کے وکیل اکرام چوہدری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اعلی عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی سے متعلق بنائے جانے والے جوڈشیل کمیشن میں وزیر قانون اور اٹارنی جنرل کی موجودگی ججوں کی تقری کے طریقہ کار کو شفاف نہیں رہنے دے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان افراد کی شمولیت عدالتی کام میں انتظامی مداخلت ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی وزیر قانون ججوں کی تقرری کے حوالے سے جو بھی دلیل پیش ہوتی تھی وہ اس میں موجود ہوتے تھے تواب جوڈیشل کمیشن میں اُن کی موجودگی پر کیا اعتراض ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس جاوید اقبال نے راولپنڈی بار کے وکیل اکرام چوہدری سے استفسار کیا کہ اعلی عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی کے نئے طریقہ کار سے عدلیہ کی آزادی کیسے متاثر ہوسکتی ہے۔

اکرام چوہدری کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن میں وزیر قانون اور اٹارنی جنرل کی موجودگی سے معاملہ سیاسی ہوجائے گا جبکہ اس کے علاوہ ان ججوں کی تقری کو حتمی شکل دینے کے لیے پارلیمانی کمیشن بھی موجود ہے اور یہ دونوں کمیشن عدلیہ کی آزادی پر ایک قدغن لگانے کے مترادف ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس جاوید اقبال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کمیشن ججوں کے ناموں کو تجویز نہیں کریں گے اور ججوں کے نام چیف جسٹس ہی بھجوائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کوئی کانچ کی گُڑیا نہیں کہ کمیشن بنانے سے اسے ٹھیس پہنچے گی۔

جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ بار کے وکیل حامد خان نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ ججوں کی تقرری ایک انتظامی معاملہ ہے انہوں نے کہا کہ اگر پارلیمانی کمیشن کسی جج کے نام کو حتمی شکل دے گی تو کیااسے عوامکا عدلیہ پر اعتماد نہیں کہیں گے۔

جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر پارلیمنٹ اپنی ذمہ داریوں میں اضافہ کرنا چاہتی ہے تو کسی کو کیا اعتراض ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ضیاء گروپ کے صدر اعجاز الحق نے اٹھارویں ترمیم میں صوبہ سرحد کا نام خیبر پختون خوا رکھنے اور سیاسی جماعتوں میں انتخابات کی شق ختم کرنے کے خلاف درخواست دائر کر رکھی تھی۔ اُن کے وکیل غفار خان نے درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرنے پر اتفاق رائے نہیں پایا گیا اور آٹھ سے زائد افراد اس تنازعہ پر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

عدالت نے اعجاز الحق کے وکیل سے کہا کہ یہ ایک سیاسی معاملہ ہے اور عدالت کو اس میں نہ گھسیٹا جائے۔

اعجاز الحق کے وکیل نے سیاسی جماعتوں میں انتخابات نہ کروانے سے متعلق دلائل دینے شروع کیے اور کہا کہ یہ شق جمہوریت کی نفی ہے اور اس سے جماعتوں کے سربراہوں کی آمریت قائم ہوجائے گی۔

بینچ میں شامل جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ درخواست ایسے شخص نے دائر کی ہے جو خود ایک آمر کا بیٹا ہے جس پر بینچ میں شامل جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ ہمیں کسی شخص کی ولدیت پر نہیں جانا چاہیے جس کے بعد جواد ایس خواجہ نے معذرت کی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اُنہیں خوشی ہے کہ اعجاز الحق بطور عام شہری عدالت میں آئے ہیں۔ عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت بارہ جولائی تک ملتوی کردی۔

اُدھر جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے عبوری آئینی حکمنامے کے تحت حلف اُٹھانے والے ججوں کی طرف سے توہین عدالت کے نوٹسز کی سماعت کرنے والے بینچ کی تشکیل پر اُٹھائے جانے والے اعتراضات کو مسترد کردیا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ جن ججوں نے پی سی او کے تحت حلف اُٹھایا تھا اور اُنہیں توہین عدالت کے نوٹسز بھی جاری کیے گئے ہیں اُن کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

جن پی سی او ججوں کو توہین عدالت کے نوٹسز جاری ہوئے تھے اُن میں غیر آئینی قرار دیے جانے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس چوہدری افتخار حسین بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں