’بھارت کشمیر میں قبرستان کا امن چاہتا ہے‘

Image caption کشمیر میں حالیہ عوامی احتجاج میں انیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں

بھارت کے زیرِ انتظام کشیمر میں حریت کانفرنس کے معتدل دھڑے کے رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ آج کشمیر میں حالت سن انیس سو نوے کے حالات پر پہنچ گئے ہیں جب بھارتی فوج شدت پسندوں سے لڑ رہی تھی اور آج وہ سری نگر کے گلی کوچوں میں عام شہریوں کے خلاف صف آرا ہے۔

کشمیر میں گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری عوامی احتجاج، کرفیو اور عام شہریوں کی ہلاکتوں پربھارت کے این ڈی ٹی وی کو اپنے حالیہ انٹرویو میں میر واعظ عمر فاروق نے بڑے جذباتی انداز میں کہا کہ دہلی سرکار کشمیر کے مسئلہ کو لٹکانے یا طول دینے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

میر واعظ نے کہا کہ دہلی سرکار کشمیر میں قبرستان کا امن چاہتی ہے جب کہ ’وہ کشمیر میں امن نہیں بلکہ حل چاہتے ہیں۔‘

میر واعظ نے جو ماضی میں بھارت کی حکومت کے ساتھ مذاکرات اور ’خاموش ڈپلومیسی‘ میں بھی شریک رہے ہیں کہا کہ بھارت سرکار کی طرف سے گزشتہ بیس برس میں ایک مرتبہ بھی اس مسئلہ کے حل کے لیے کوئی تجویز پیش نہیں کی گئی۔

انھوں نے کہا کہ انھوں نے اپنی زندگیاں خطرے میں ڈال کر بھارت سے بات چیت کرنے کا فیصلہ کیا۔ ’ ہم دہلی گئے ہم پاکستان گئے ہم نے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے مختلف تجاویر پیش کئیں۔‘

انھوں نے کہا کہ بھارت سرکار چاہتی ہے کہ کشمیر کے لوگ گزشتہ بیس برس کے دوران ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کی ہلاکتوں کو بھول جائیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ مسئلہ ’گڈ گورننس‘ یا شفاف حکومت ، معاشی ترقی یا سیاحت کو ترقی دینے کا نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ مسئلہ عمر عبداللہ یا حریت کا بھی نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ مسئلہ کشمیر کے لوگوں کا ہے اور اس کا سیاسی حل ڈھونڈنا ہو گا۔

میر واعظ نے سری نگر کی سڑکوں پر احتجاج کرنے والوں کے بارے میں کہا کہ دہلی کو سوچنا پڑے گا کہ یہ کیا چاہتے ہیں اور یہ کیوں سڑکوں پر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا ان کی آواز سننے کے لیے کوئی تیار ہے۔ کیوں یہ اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر سڑکوں پر آتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بھارت میں کبھی بھی کشمیر کی اصل صورت حال پیش نہیں کی گئی اور ہمیشہ اسے پاکستان کے ’پرزم‘ سے پیش کیا گیا ہے۔ بھارت میں اسے دہشت گردی اور انتہاہ پسندی اور شدت پسندی ہی کہا جاتا رہا۔

میر واعظ نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ بھارت کے لوگوں کو کشمیر کی اصل تصویر اور حالات سے آگاہ کیا جائے۔

حریت کانفرنس کے سربراہ نے کہا کہ کشمیر میں جدوجہد کی مشعل نوجوان نسل کو منتقل ہو گئی ہے اور اسے فوجی اور عسکری قوت سے دبایا جاسکتا۔

انھوں نے کہا کہ کشمیر کے لوگوں کے عزم اور ارادے کو کسی بھی فوجی قوت سے دبایا نہیں جا سکتا۔

بھارتی کے ذرائع ابلاغ پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کشمیر پر پتھر پھینکے والے بچوں اور لڑکوں کو ہلاک کیا جاتا ہے اور انھیں بھارتی ذرائع ابلاغ کبھی ’گینگ سٹر‘ کبھی ’موبسٹر‘ اور شر پسند قرار دیتے ہیں۔